ایک صاحب نے غصہ کے علاج کا مجرب نسخہ دریافت کیا۔ جواب میں تحریر فرمایا کہ جس پر غصہ کیا جاوے تو غصہ زائل ہوجانے کے بعد مجمع میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑیے، پاؤں پکڑیے، بلکہ اس کے جوتے اپنے سر پر رکھیے۔ ایک دو بار ایسا کرنے سے نفس کو عقل آجائے گی۔
(تربیت السالک:342/1)
غصہ کے متعلق ایک صاحب کے سوال کے جواب میں تحریر فرمایا کہ
سرعتِ غضب (جلدی غصہ آجانا) امرِ طبعی ہے، اختیار سے خارج ہے، نہ اس پر ملامت ہے (یعنی اس میں کوئی مضایقہ نہیں) البتہ اس کےمقتضا پر عمل جبکہ حدود سے تجاوز ہوجاوے مذموم ہے (یعنی غصہ کے تقاضے پر عمل اس وقت بُرا ہے جبکہ حد سے تجاوز ہوجاوے۔) اور اس کا علاج بجُز ہمت کے کچھ نہیں۔ اس ہمت میں مغضوب علیہ (یعنی جس پر غصہ آیا ہےاس) سے فوراً دور چلا جانا اور اعوذ باللہ پڑھنا اور اپنی خطاؤں اور حق تعالیٰ کے غضب کے احتمال کو یاد کرنا یہ بہت مُعین ہے، اور نرمی وغیرہ مدت تک تکلف سے سوچ سوچ کر اختیار کرنا چاہیے، مدت کے بعد ملکہ حاصل ہوگا۔ ہمت نہ ہاریے۔
(تربیت السالک:246/1)