Deobandi Books

علاج الغضب

ہم نوٹ :

47 - 50
مجھ کو چاہیے کہ اس شخص کو بھی معافی دے دوں، اور یہ سوچو کہ یہ شخص میرا اتنا خطاوار تو ہوگا نہیں جتنا میں اللہ تعالیٰ کا گناہ گار ہوں۔ پھر جب میں معافی کا آرزو مند ہوں تو اس کوکیوں نہ معاف کردوں۔
 دوسرا کام یہ کرے کہ فوراً وہاں سے جُدا ہوجاوے یعنی اس جگہ نہ رہے، جب تک کہ غصہ بالکل فرو (زائل) نہ ہوجاوے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس تدبیر سے اس کے شر سے محفوظ رہیں گے۔
تیسرا کام یہ کرے کہ کوئی وقت مُعَیّن کرکے اپنے عیوب کا دھیان کیا کرے اور سوچا کرے کہ میں سب سے بدتر ہوں۔ اس سے کِبر کی جڑ کٹ جائے گی،اور غصہ کا منشا (سبب) کِبر ہی ہے۔ (کبر کے معنیٰ ہیں اپنے کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کو حقیر سمجھنا۔)
اور غصہ کے وقت یہ خیال کرلیا کرے کہ تُو تو سب سے بدتر ہے۔ پس اپنے سے بہتر پر غصہ نہ آنا چاہیے۔
(تربیت السالک:249/1)
ایک سوال کے جواب میں تحریر فرمایا کہ غصہ کے وقت تھوڑی سی ہمت کرنے کی ضرورت ہے کہ جس پر غصہ ہے اس کو اپنے سامنے سے ہٹادے یا خود علیحدہ ہوجاوے۔ اور اگر پھر بھی غلطی ہوجاوے تو اس کایہی تدارک جو آپ کا معمول ہے کافی ہے۔ (یعنی معافی مانگنا) اور اس کا شبہ نہ کیا جاوے کہ شاید دل سے معاف نہ کیا ہو کیوں کہ انسان اس سےزیادہ کا مکّلف نہیں کہ اپنی طرف سے دل سے (صاحبِ حق کو) راضی کرنے کی کوشش کرے۔ اس سے آگے اختیار نہیں تو اس کامکلّف بھی نہیں۔
(تربیت السالک: 248/1)
فرمایا کہ اگر اس کا التزام کرلیں کہ جب کسی پر غصہ آجاوے تو اس کو کچھ ہدیہ دیا کریں چاہے قلیل ہی مقدار ہو ،تو  زیادہ نفع ہو۔
فرمایا کہ غصہ کا ایک مجرب علاج یہ ہے کہ جس پر غصہ آیا ہے اس کو اپنے پاس سے جدا کردیا جاوے یا اس کے پاس سے خود جدا ہوجاوے اور فوراً کسی شغل میں لگ جاوے۔
(کمالاتِ اشرفیہ:۲۳۔۲۴)
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 5 1
3 علاج الغضب 6 1
Flag Counter