Deobandi Books

علاج الغضب

ہم نوٹ :

40 - 50
پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہےجو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔
ایک دیہاتی صحابی جو ابھی نیا نیا اسلام لائے تھے ان کو معلوم ہی نہیں تھا کہ مسجد کے آداب کیا ہیں؟ وہ آئے اور مسجدِ نبوی میں پیشاب کرنا شروع کردیا۔ صحابہ دوڑے کہ ہیں ہیں کیا کررہے ہو اور اس کو ڈانٹنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَاتَزْرِ مُوْہُ اس کا پیشاب منقطع نہ کرو یعنی اس کو پیشاب کرنے سے منع مت کرو، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ جب اطمینان سے وہ فارغ ہوگیا تو آپ نے اس کو اپنے پاس بلایا اور نرمی سے سمجھایا کہ مساجد اللہ کے ذکر، نماز اور تلاوتِ قرآن کے لیے ہوتی ہیں، مساجد میں پیشاب کرنا اور گندگی پھیلانا بُری بات ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ایک بالٹی پانی لاؤ اور پیشاب پر بہادیا۔ مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ’’خطباتِ مدراس‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ایک انگریز مؤرخ لکھتا ہے کہ میں نے مسلمانوں کے پیغمبر جیسی برداشت، صبر اور عقل کامل کہیں نہیں پائی،کیوں کہ ایسے وقت میں جب کسی کی مقدس جگہ کوئی پیشاب کرنے لگے تو انسان کی عقل ٹھیک نہیں رہتی لیکن مسلمانوں کے پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال عقل سے میں کافر ہوکر حیران ہوں کہ آپ نے کس طرح اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے اپنی حسن تدبیر سے پوری مسجد کو ناپاک ہونے سے بچالیا۔ اس وقت عقل کا تقاضا بھی یہی تھا کیوں کہ اگر اس حالت میں اس کو دوڑا لیا جاتا تو ساری مسجد ناپاک ہوجاتی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحمل سے کام لیا جس سے تھوڑی سی جگہ ہی ناپاک ہوئی جو آسانی سے پاک ہوگئی۔اس سے منشایہ بتلانا ہے کہ تحمل بہت بڑی چیز ہے۔ اونٹ چرانے والی قوم کو اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے صدقہ میں کہاں سے کہاں پہنچادیا۔ اکبر الٰہ آبادی نے کیا خوب کہا ہے ؎
دُر  فشانی  نے  تری  قطروں  کو  دریا  کردیا
دل  کو  روشن  کردیا  آنکھوں  کو  بینا  کردیا
_____________________________________________
32؎   صحیح مسلم:138/1، کتاب الطہارۃ،ایج ایم سعید
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 5 1
3 علاج الغضب 6 1
Flag Counter