اور جو میری بات کو سنتا ہے وَیَعْرِفُ مَکَانِیْ اور جو میرے رہنے کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔ وَیَذْکُرُنِیْ وَلَایَنْسَانِیْ اور جو ہمیشہ مجھ کو یاد رکھتا ہے اور کبھی مجھ کو نہیں بھولتا کہ کسی وقت روزی نہ ملے۔ 30؎
تو حضرت موسیٰ علیہ السلام جن کی اتنی طاقت تھی ان ہی کے ریوڑ سے نبوت ملنے سے پہلے ایک بکری بھاگ گئی۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے جو بہت بڑے مفسر ہیں اپنی تفسیر کبیر میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک بکری ان کے ریوڑ سے بھاگ گئی، اس کو پکڑنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام دوڑے، وہ بھاگتے بھاگتے میلوں دوڑ گئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام لاٹھی لیے پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں، کانٹوں سے آپ کے پاؤں مبارک لہو لہان ہوگئے اور بکری کا بھی یہی حال ہوگیا، تمام کانٹے چبھ گئے، اس کے پاؤں سے بھی خون بہہ رہا تھا، آخر میں وہ تھک گئی اور کھڑی ہوکر ہانپنے لگی، تب آپ نے اس بکری کو پکڑلیا۔ بتائیے! اگر ہم آپ پکڑتے تو کیا کرتے، نہ معلوم اس کی کتنی پٹائی کرتے بلکہ چھری سے ذبح ہی کر ڈالتے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا کیا؟ اپنے کانٹوں سے پہلے اس کے کانٹے نکالے اور اس کے پیر دبانے لگے، اس کے بعد اس کو اپنے کندھوں پر اُٹھالیا اور جہاں سے وہ بکری بھاگی تھی واپس اس جگہ تک پہنچادیا۔ اس وقت آپ کو غصہ نہیں آیا بلکہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے اور یہ فرمارہے تھے کہ اے بکری! اگر تجھ کو موسیٰ پر رحم نہیں آیا تو اپنے اوپر تو رحم کرتی، تُو نے اپنے کو اتنی مصیبت میں کیوں ڈالا؟امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ فرشتوں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے گزارش کی یااللہ! یہ شخص نبوت کے قابل معلوم ہوتا ہے۔ اتنا صبر، اتنی برداشت، اتنا حلم، اے اللہ! اپنی رحمت سے آپ اس کو نبی بنادیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ان کو نبوت کے لیے منتخب کیا ہوا ہے،یہ ہمارے علم میں نبی ہیں۔ جن کے درجے بلند ہوتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ قوتِ برداشت عطا کرتا ہے،یہ کیا کہ ذرا سا غصہ آیا اور پاگل ہوگئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرْعَۃِ اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضْبِ31؎
_____________________________________________
30؎ روح المعانی :12/2، داراحیاء التراث، بیروت
31؎ صحیح البخاری: 903/2، باب الحذر من الغضب، المکتب القدیمیہ