اور بعض نے وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ ...الخ سات مرتبہ پانی پر دم کرکے پی لیا۔ اس آیت کی برکت سے ان کا غصہ ٹھیک ہوگیا۔ اور درود شریف پڑھنا بھی بہت مفید ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت کو سوچا کرے کہ ہمیں بھی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے رحمت لینی ہے، اس لیے اللہ کے بندوں کی خطاؤں کو معاف کردے۔ خود تکلیف اُٹھالے، اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ دے اور یہ نیک بندوں کی علامات میں سے ہے۔
علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح بخاری میں خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا کہ نیک بندے کون ہیں؟ قرآنِ پاک کی ایک آیت ہے:
اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ28؎
اَبْرَارْ جمع ہے بَرٌّ کی، بَرٌّ معنیٰ نیک۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ابرار کی تفسیر فرماتے ہیں اَلَّذِیْنَ لَایُؤْذُوْنَ الذَّرَّ29؎ نیک بندے وہ ہیں جو چیونٹیوں کو بھی اذیت نہ دیں اور وَلَایَرْضَوْنَ الشَّرَّاور اللہ کی نافرمانی سے ناراض رہیں خوش نہیں ہوتے،اگر دوسرے کو بھی اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے دیکھ لیں تو دل میں دُکھ پیدا ہوجاتا ہے کہ ہائے یہ میرے اللہ کی نافرمانی کررہا ہے۔ نیک بندوں کی دو علامات ہوئیں:
۱) وہ چیونٹیوں کو بھی اذیت نہیں دیتے۔ اور
۲) اللہ کی نافرمانی سے راضی نہیں ہوتے۔
اس لیے اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ خصوصاً غصہ کی حالت میں،کیوں کہ غصہ میں عقل مغلوب ہوجاتی ہے۔ اس لیے غصہ میں آدمی دوسرے کو زیادہ اذیت پہنچادیتا ہے۔
اچھا جس کو طاقت زیادہ ہوتی ہے اسی کو غصہ بھی زیادہ آتا ہے لیکن اگر اس کی طاقت سے زیادہ طاقت والا آجائے تب اس کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے ڈاکٹر احسن صاحب ایک دن مجھ سے کہنے لگے کہ لوگ کہتے ہیں کہ صاحب میں غصہ میں پاگل ہوجاتا ہوں۔ تو ہنس کر کہنے لگے کہ غصہ بہت چالاک
_____________________________________________
28؎ الانفطار:13
29؎ عمدۃ القاری: 218/1، باب المسلم من سلم المسلمون، دارالکتب العلمیۃ،بیروت