اسی لیے حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب دامت برکاتہم بتاتے ہیں کہ چلتے پھرتے کثرت سے یَااَللہُ یَارَحْمٰنُ یَارَحِیْمُ پڑھتا رہے، لیکن اتنا زیادہ نہ پڑھے کہ دماغ گرم ہوجائے بلکہ اپنی طاقت و تحمل کے مناسب پڑھے۔ بس چلتے پھرتے کبھی کبھی کہہ لیا کرے یَااَللہُ یَارَحْمٰنُ یَارَحِیْمُ یہ نہیں کہ مشین کی طرح زبان چلے جارہی ہے۔ آج کل قویٰ کمزور ہوگئے ہیں، زیادتی وظائف سے دماغوں میں خشکی پیدا ہورہی ہے، یہاں تک کہ بعض لوگ پاگل ہوگئے۔ اس لیے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کوئی بھی وظیفہ ہو، طاقت سے زیادہ نہ پڑھیں بلکہ کسی مصلح سے مشورہ بھی کرلیں۔
اچھا ۲۱مرتبہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنا اگر کسی کو مشکل ہوتا ہے تو چلو سات مرتبہ پڑھ لو۔ سات مرتبہ بھی مشکل لگے تو تین مرتبہ پڑھ لو، کیوں کہ آج کل کراچی میں بڑی مصروفیت ہے۔ دیہاتوں میں تو یہ وظیفہ زیادہ بھی بتادو تو وہ کہیں گے کہ صاحب یہ تو بہت کم ہے کیوں کہ ان کے قویٰ بھی مضبوط ہوتے ہیں اور وقت بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن کراچی والے کہتے ہیں کہ ۲۱ مرتبہ بھی بہت زیادہ ہے۔ ایک تاجر سے بات ہو رہی تھی، کہنے لگے کہ صاحب مجھے تو کراچی میں مرنے کی فرصت بھی نہیں ہے۔ میں نے کہا جی ہاں! آپ کو مرنے کی بھی فرصت نہیں ہے، موت کا فرشتہ جب آئے گا تو سیٹھ صاحب سے مشورہ کرے گا کہ حضور آپ کو مرنے کی فرصت ہے یا نہیں؟ جان نکالوں یا نہ نکالوں؟ ابھی آپ ’’بِزی‘‘ تو نہیں ہیں؟ کہیں گے کہ ’’بِزی‘‘ ہوں۔ وہ کہے گا اچھا ’’بِزی‘‘ ہو مگر میں’’بُز‘‘ ہی بناکے رہوں گا، بُز کے معنیٰ بکری یعنی ابھی رُوح نکالتا ہوں۔ عزرئیل علیہ السلام شیروں کو بکری بنادیتے ہیں، رُوح ایسے نکالتے ہیں کہ پہلوان بھی دھڑام سے گِر پڑتا ہے، کوئی کتنا ہی بڑا پہلوان ہو موت کے سامنے اس کا کیا داؤ چلے گا۔
اور یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ بھی چلتے پھرتے پڑھتا رہے جس کو غصہ کی بیماری ہو۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا کہ کتنی ہی زبردست مصیبت کسی کو ہو، کتنی ہی پریشانی ہو، قرضہ کی ہو یا بیٹی کا رشتہ نہ مل رہا ہو، کوئی دُشمن ستا رہا ہو، کوئی بھی مصیبت ہو تو پانچ سو مرتبہ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ پڑھے اوّل آخر درود شریف۔ ان شاء اللہ چالیس دن بھی نہیں گزریں گے کہ اس کی مصیبت دور ہوجائے گی۔ اور حدیث سے اس کی تائید