صاحب ہوں، صوفی صاحب ہوں، واعظ صاحب ہوں یا کوئی صاحب ہوں۔ کیا وجہ ہے کہ مؤ من ہوکر ہم نے اس وقت خدا کو بھلادیا اور بنتے ہیں صوفی، تسبیحات بھی ہیں گریہ و زاری بھی ہے۔
ارے! ان آنسوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہے، اگر یہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے نہیں ڈرتا۔ چاہے اس کو کتنا ہی رونا آئے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق میں وہ خدا کو یاد نہیں رکھتا تو کیا اس کے آنسو ہیں۔ حالتِ غضب میں سوچے کہ ہم کس کے بندے ہیں، اللہ تعالیٰ آسمان سے دیکھ رہا ہے۔ اللہ کی رحمت سے اُمیدوار تو بنے ہوئے ہیں کہ قیامت کے دن خدا ہمیں اپنی رحمت سے بخش دے لیکن اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرنا نہیں آرہا ہے۔ یہاں ہم بالکل بے ہوش ہوجاتے ہیں کہ کوئی ذرا سا ستادے تو بغیر انتقام لیے چین نہیں آتا۔ علامہ ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اِنَّ الْوَلِیَّ لَایَکُوْنُ مُنْتَقِمًا وَ الْمُنْتَقِمَ لَایَکُوْنُ وَلِیًّا
اللہ کا ولی انتقام لینے والا نہیں ہوتا اور انتقام لینے والا اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔
جو اللہ کے بندوں پر رحم کرنا نہیں جانتا وہ کس منہ سے اللہ کی رحمت کا اُمیدوار بنتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایک آیت نازل فرمادی کہ اگر تم اپنی مغفرت چاہتے ہو، اگر تم مجھ سے میری رحمت چاہتے ہو تو میرے بندوں کی خطاؤں کو معاف کردو۔
لیکن اگر کسی سے بار بار غلطی ہوجاتی ہے تو مایوس ہر گز نہ ہو۔ اس کا علاج یہ ہے کہ غصہ اُترنے کے بعد فوراً اس کی تلافی کرے۔
حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک صاحب کو جو غصہ سے بار بار مغلوب ہوجاتے تھے یہ علاج تحریر فرمایا کہ جب غصہ اُتر جائے تو جس پر غصہ کیا ہے مجمع عام میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑیے، اس کے پاؤں پکڑیے بلکہ اس کے جوتے اپنے سر پر رکھیے۔ ایک دو بار ایسا کرنے سے ہی نفس کو عقل آجائے گی اور پھر یہ غلطی نہیں کرے گا، کہے گا کہ غصہ کے بعد تو بہت ذلت اُٹھانی پڑتی ہے لہٰذا ایسے غصہ سے میں باز آیا۔
یہ چند علاج ہیں کہ جس پر غصہ آرہا ہے، اس سے الگ ہوجائے، دُور چلا جائے، ٹھنڈا پانی پی لے، وضو کرلے اور اللہ کے غضب اور اس کی پکڑ کو یاد کرے۔ سرورِ عالم صلی اللہ