آدمی آپ سے لڑنے لگیں گے کہ آپ نے ہمیں دیکھ کر لاحول پڑھا، ہمیں شیطان بنادیا۔ اب یہ غلط چیز مشہور ہوگئی کہ لَاحَوْلَ شیطان پر پڑھی جاتی ہے۔ اس لیے آدمی لڑنے اور مرنے مارنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، یہ نادانی ہے،کیوں کہ اس کے معنیٰ اس کو معلوم نہیں فوراً کہتا ہے کہ آپ نے مجھ پر لَاحَوْلَ پڑھ دیا۔ افوہ! معلوم ہوتا ہے کہ بڑی خطرناک گالی دے دی لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ لہٰذا اس کو سن کر بُرا نہیں ماننا چاہیے۔ یہ اللہ سے مدد لینے کا وظیفہ ہے۔تو غصہ کے وقت اَعُوْذُ بِاللہِ پڑھ لے اور جس پر غصہ آرہا ہے وہاں سے ہٹ جائے یا اس کو ہٹادے۔ اس سے کہہ دے کہ آپ اس وقت میرے سامنے سے چلے جائیں، لیکن بعض وقت اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ ہم اس کو ہٹاسکیں، ایسے وقت میں خود ہی وہاں سے بھاگ جائے۔ مسجد چلاجائے وضو کرلے اور دو رکعت نمازِ حاجت پڑھ کر دُعا کرلے۔ پانی غصہ کا علاج ہے، وضو کرلو اور پانی بھی پی لو، کیوں کہ آگ جب لگتی ہے تو پانی ہی سے توبجھتی ہے۔ یہ حدیثوں کے علاج ہیں کہ جس پر غصہ چڑھے وضو کرلے26؎ اور اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے27؎ اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے۔ اس طرح وہ انتقام لینے سے دُور ہوتا جارہا ہے، کیوں کہ مارنے کے لیے کھڑے ہوکر دوڑنا آسان تھا اور اب جب بیٹھ گیا تو انتقام سے ایک درجہ دور ہوگیا۔ اب بیٹھ کر دوبارہ اُٹھنے سے تھوڑی سی تو کاہلی لگے گی اور اگر لیٹ گیا تو انتقام سے تین درجہ نیچے آگیا۔ کہے گا کہ لیٹ کر بیٹھوں اور بیٹھ کر کھڑا ہوں اور پھر دوڑوں مارنے کے لیے۔ چلو جانے دو۔
حدیث کی ترتیب دیکھیے کہ کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ۔ اس میں حکمتیں پوشیدہ ہیں اور وضو کا بھی حکم فرمادیا تاکہ مزاج ٹھنڈا ہوجائے، اور اللہ کے عذاب کو سوچے کہ جتنا غصہ مجھے اس پر آرہا ہے اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہوجائیں تو میرا کہاں ٹھکانہ ہے، اور جتنی طاقت مجھے اس پر ہے اس سے زیادہ طاقت و قدرت خدا کو مجھ پر ہے۔ اس وقت خدا کو یاد کرے۔ اگر اس وقت خدا یاد نہیں آتا اور غصہ کی حالت میں خدا کا عذاب، خدا کی پکڑ کسی کو یاد نہیں رہتی اور غصہ والا کہتا بھی یہی ہے کہ صاحب ہمیں تو کچھ یاد نہیں رہتا۔ یہی دلیل ہے کہ اس وقت وہ شیطان کے قبضہ میں چلاگیا۔ چاہے سید صاحب ہوں، مولوی
_____________________________________________
26؎ مشکوٰۃ المصابیح:434 ،باب الغضب والکبر ، المکتب القدیمیہ
27؎ کنزالعمال: 828/3 (8871) ، باب الغضب،مؤسسۃ الرسالۃ