دلیل اِنْتِفَاخِ اَوْ دَاجِہٖ بیان فرمائی یعنی اس کی گردن کی رگیں بھی پھول جاتی ہیں۔ تو غصہ میں گویا آدمی شیطان ہوجاتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا اور غصہ میں دل میں آگ لگ جاتی ہے جیسا کہ میں نے ابھی آپ کو حدیثِ پاک سنائی۔ لہٰذا غصہ میں جو شیطانی کام بھی پیدا ہوجائے، وہ بعید نہیں ہے۔ غصہ میں ایسے خطرناک اعمال لوگوں سے ہوئے ہیں کہ جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے، غصہ میں لوگوں نے اللہ کو گالی دے دی، شریعت کو گالی دے دی، مسلمان سے کافر ہوگئے۔ اَلْعِیَاذُ بِاللہِ۔
غصہ میں انسان اپنے ماں باپ سے لڑجاتا ہے، اپنی بیوی پر حد سے زیادہ سختی کردیتا ہے، ظلم کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کی آہ لیتا ہے۔ غصہ میں بیوی شوہر کے ساتھ گستاخی کرجاتی ہے اور بیٹا باپ سے، شاگرد اُستاد سے، مرید شیخ سے، اُمتی نبی سے اور بندہ اللہ تعالیٰ سے لڑجاتا ہے۔ یہ ایسی خطرناک بیماری ہے، اس خطرناک بیماری سے انسان اپنے بڑوں کی شفقتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ اگر شاگرد اُستاد سے لڑجائے گا تو کیا استاد اس پر شفقت کرے گا؟ جو بھی اپنے بڑوں کا ادب کرے گا، اپنے بڑوں کی عنایات سے مالا مال ہوجائے گا۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اپنے بڑوں کے معاملے میں ایک دم پانی ہوجائیں، جیسے چاہیں وہ ہم پر ناز دکھائیں، ہم اس کو برداشت کریں۔ اختر بھی آپ سے دعا چاہتا ہے۔
ہزاروں واقعات ہیں کہ غصہ کی بیماری کی وجہ سے ہزاروں گھر برباد ہوگئے۔ابھی کچھ دن پہلے میرا سفر ٹنڈوجام کا ہوا۔ اسّی سال کے ایک بڑے میاں آئے، کہنے لگے کہ میرے داماد نے میری بیٹی کو تین طلاق دے دی اور اس کے آٹھ لڑکے ہیں اور نواں بچہ پیٹ میں ہے۔ سنیے ذرا! ایک تو جوانی میں کوئی غلطی کردے تو کہہ دیتے ہیں کہ نا سمجھی سے کم عقلی سے ایسا ہوگیا لیکن یہ تو بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے اور تبلیغ میں بھی جاتے رہتے ہیں۔ اب ان کو بھی دورے پڑ رہے ہیں کیوں کہ چھوٹے چھوٹے بچے چھوٹ گئے۔ غصہ میں تو انسان کو اپنی نالائقی کا پتا ہی نہیں رہتا۔ اب بعد میں ہوش آیا کہ میں نے کیا بے وقوفی کی کہ بیوی کو ہمیشہ کے لیے جدا کردیا اور بچے بھی تمام عمر کوسیں گے کہ کیسا ظالم باپ تھا کہ جس نے ہماری ماں کو اس عمر میں آکر طلاق دی۔ سارے گھر میں آگ لگ گئی۔ اب اس شوہر کو خود اتنا غم ہے کہ دورے پڑ رہے ہیں، دل کی بیماری ہوگئی۔ لیکن اب کیا ہوتا ہے۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔