جو ڈنکا پٹ رہا ہےیہ اسی عورت کی برکت سے ہے، اس کی ایذاؤں پر صبر کرتا ہوں اور اس صبر پر اللہ تعالیٰ نے مجھے استقامت عطا فرمائی ہے،یہ اسی کا انعام ہے۔دوستو! ایمان لانے کے بعد اللہ کے راستےپر جمے رہنا، اسی کا نام استقامت ہے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا23؎
گھڑی میں اولیاء اور گھڑی میں بھوت بننے والے تو بہت سے ہیں، کچھ دن تو بالکل فرشتے بن گئے اور جب نفس کا غلبہ ہوا تو سب چھوڑ چھاڑ کر بالکل شیطان بن گئے۔ جب غصہ چڑھا تو پھر یہ بھی نہیں دیکھتے کہ میں کون ہوں اور میرا اللہ کون ہے؟ پھر ان کو پتا ہی نہیں رہتا کہ میں ابھی تلاوت کررہا تھا اور رات کو تہجد بھی پڑھی ہے اور اشراق بھی پڑھی ہے، غصہ میں بس ایک دم شیطان ہوگئے اور پٹائی شروع کردی، جو منہ میں آیا بکنا شروع کردیا۔
اس وقت آدمی بالکل شیطان ہوجاتا ہے،کیوں کہ شیطان آگ سے پیدا ہے اور حدیث میں ہے کہ غصہ بھی آگ سے پیدا ہوتا ہے۔
علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح المعانی میں حدیث نقل کرتے ہیں:
اِتَّقُوا الْغَضْبَ فَاِنَّہٗ جَمْرَۃٌ تَتَوَقَّدُ فِیْ قَلْبِ ابْنِ اٰدَمَ
غصہ سے بچو کیوں کہ یہ آگ کا شعلہ ہے جو ابنِ آدم کے دل میں سلگتا ہے۔
اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دلیلیں بیان فرمائیں کہ غصہ کا مادّہ اوراس کے اجزاء آگ سے بنے ہیں:
اَلَمْ تَرَوْا اِلَی انْتِفَاخِ اَوْ دَاجِہٖ وَ حُمْرَۃِ عَیْنَیْہِ24؎
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جس پر غصہ چڑھتا ہےاس کی گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں اور اس کی آنکھیں لال ہوجاتی ہیں۔
آنکھیں بتاتی ہیں کہ اندر آگ ہے۔ آگ جل جائے تو شیشہ کے باہر سے لال لال آگ نظر آتی ہے، آنکھیں شیشہ ہیں،یہ بتاتی ہیں کہ دل میں آگ لگی ہوئی ہے، اور دوسری
_____________________________________________
23؎ حٰمٓ السجدۃ:30
24؎ مسند احمد:19/3 / کنز العمال:922/15(43587)،مؤسسۃ الرسالۃ