قولِ او را لحن نَے آواز نَے
اسی کو خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ؎
تم سا کوئی ہمدم کوئی دمساز نہیں ہے
باتیں تو ہیں ہر دم مگر آواز نہیں ہے
ہم تم ہی بس آگاہ ہیں اس ربطِ خفی سے
معلوم کسی اور کو یہ راز نہیں ہے
حضرت مرزا مظہرجانِ جاناں نے اللہ تعالیٰ سے سودا کرلیا۔ اہل اللہ تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی مرضی پر اپنے دل و جان قربان کرنے کی راہیں تلاش کرتے رہتے ہیں ؎
ان کی مرضی پر مری قربان جاں
اللہ اللہ میں تھا اِس قابل کہاں
؎
جو تُو مشتری ہے تو اے جانِ عالم
بہ نوک سنانت جگر می فروشم
بہ تیغ ادائے تو سَر می فروشم
حضرت کی خدمت میں ایک کابلی آیا۔ حضرت نے فرمایا کہ جاؤ گھر سے کھانا لے آؤ۔ آواز دے کر کہا کہ حضرت نے کھانا منگایا ہے کھانا دے دو۔ بس پھر کیا تھا۔ حضرت کو خوب بُرا بھلا کہنا شروع کردیا کہ پہلے سے کیوں نہیں منگایا؟ ایک گھنٹہ سے کھانا لیے بیٹھی ہوں اور وہاں مجلسِ ملفوظات و ارشادات ہو رہی ہے،بڑے پیر بنے بیٹھے ہیں اور ہمیں اذیت پہنچارہے ہیں، بندوں کے حقوق کا خیال نہیں، پیر کیا ہے، مکّار ہے وغیرہ وغیرہ۔ کابلی نے توچُھرا نکال لیا، مگر پھر خیال آیا کہ یہ تو میرے شیخ کی بیوی ہے، اس لیے فوراً رکھ لیا اور اپنی زبان میں کہا تم ہمارے شیخ کا بی بی ہے، اس لیے چھوڑ دیا ورنہ ابھی کام تمام کردیتا اور آکر عرض کیا حضرت ایسی کڑوی عورت سے آپ نے کیوں شادی کی؟ فرمایا کہ بے وقوف!یہ سارے عالم میں مظہرجانِ جاناں کا