مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ کو کشف ہوگیا کہ یہ بیگم کی باتیں سن کر باغم آرہا ہے یعنی غمگین ہے۔ شیخ ہنسے اور فرمایا کہ بھائی کچھ پریشان نظر آرہے ہو، کیا بات ہے؟ کہنے لگا کہ حضرت آپ کے گھر میں تو بڑی تلخ مزاج عورت ہے، ایسی بیوی سے آپ نے کیوں شادی کی؟ تو شیخ نے فرمایا کہ یہ جو مجھے شیر کی سواری ملی ہے اور زندہ سانپ کا کوڑا ملا ہے یہ کرامت اسی خاتون کی تکلیفوں پر صبر کا انعام ہے۔
اور اب مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی سنیے کہ شاہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ؎
گر نہ صبرم می کشیدے بارِ زن
کَے کشیدے شیرِ نر بے گارِ من
اگر میرا صبر اس عورت کی تکلیفوں کے بوجھ کو نہ اُٹھاتا تو بھلا یہ شیرِِ نر کب میری بے گاری کرتا اور میرا غلام بنتا؟عادت اللہ یہی ہے کہ جس کو کوئی نعمت دیتے ہیں مجاہدہ کراکے دیتے ہیں۔ حضرت مرزا مظہرجانِ جاناں کتنے نازک مزاج تھے۔ دُشمن نے جب ان کو گولی ماری کسی نے پوچھا حضرت مزاج کیسے ہیں؟ فرمایا کہ گولی سے تو کوئی تکلیف نہیں، لیکن گندھک کی بدبو سے سخت تکلیف ہو رہی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد سے نماز پڑھ کر واپس ہوتے تھے، اگر راستے میں کوئی پلنگ ٹیڑھا پڑا ہوا دیکھ لیا تو سر میں درد ہوگیا،رضائی میں اگر دھاگے ٹیڑھے ڈال دیے تو ساری رات نیند نہیں آئی۔ دہلی کا بادشاہ حاضرِ خدمت ہوا اور پانی پی کر کٹورا صراحی پر ترچھا رکھ دیا، حضرت کے سر میں درد ہوگیا۔ پھر اس نے عرض کیا کہ حضرت آپ کی خدمت کے لیے میں ایک خادم دینا چاہتا ہوں تو فرمایا کہ اب تک تو میں خاموش تھا، تم نے پانی پی کر کٹورا صراحی پر ترچھا رکھ دیا جس سے میرے سر میں درد ہوگیا۔ تمہارا خادم میں کیا قبول کروں۔ جیسے تم ہو ایسا ہی تمہارا خادم ہوگا۔
ان مرزا مظہرجانِ جاناں کو الہام ہوا کہ دلّی میں ایک نہایت بدمزاج، غصہ والی اور بداخلاق عورت ہے، اگر تم اس سے نکاح کرلو تو سارے عالم میں ہم تمہارا ڈنکا پٹوادیں گے۔ اہل اللہ کو الہام ہوجاتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بس صرف آواز نہیں آتی ورنہ ہر وقت دل میں باتیں ہوتی رہتی ہیں کہ یہ کرلو، یہ نہ کرو؎