Deobandi Books

علاج الغضب

ہم نوٹ :

24 - 50
نہیں۔ بشرطیکہ وہ اس کی تلافی کرے، معافی مانگ لے، اللہ سے توبہ کرلے، استغفار کرلے۔
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس دس سال تک ایک شخص رہا تھا، اس نے حضرت سے کوئی کرامت نہیں دیکھی، ہوا پر اُڑتے ہوئے، پانی پر بغیر کشتی کے چلتے ہوئے نہیں دیکھا تو مایوس ہوکر واپس ہونے لگا اور کہا کہ حضرت دس سال تک میں نے آپ کے اندر کوئی کرامت نہیں پائی، لہٰذا واپس جارہا ہوں۔
حضرت جنیدبغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اے شخص تُو نے دس سال کے اندر مجھ سے کوئی کام خلافِ شریعت اور خلافِ سنت ہوتے ہوئے دیکھا؟ اس نے کہا کہ حضرت دس سال تک میں نے آپ کا کوئی کام خلافِ شریعت اور خلافِ سنت نہیں پایا۔ اس پر حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک آہ کھینچی اور فرمایا آہ! جس غلام نے دس سال تک اپنے مالک کو ایک لمحہ کے لیے بھی ناراض نہیں کیا، اس سے بڑھ کر تُو کیا کرامت چاہتا ہے؟
حضرت ملّاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اَلْاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ اَلْفِ کَرَامَۃٍ سنت و شریعت پر استقامت ایک ہزار کرامت سے افضل ہے۔
میں یہ عرض کررہا تھا کہ غصہ کو ضبط کرنے سے اور مخلوق کی ایذاؤں کو برداشت کرنے سے بعض بزرگوں کو بڑی کرامت عطا ہوگئی۔ حضرت شاہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ شیر پر چلتے تھے اور جنگل کی لکڑی کاٹ کر شیر  پر رکھتے تھے، اور اگر کبھی شیر شرارت کرتا تھا تو زندہ سانپ کا کوڑا تھا، اس سے شیر کی پٹائی کرتے تھے۔ خراسان سے ایک شخص ان سے بیعت ہونے خرقان حاضر ہوا۔ ان کی بیوی بڑی تیز مزاج تھیں۔ پوچھا کیسے آئے؟ کہا کہ حضرت سے مرید ہونے آیا ہوں۔ کہنے لگیں لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ مجھ سے زیادہ اس پیر کا حال دنیا کیا جان سکتی ہے؟ رات دن میں اس کے ساتھ ہوں، بالکل بنا ہوا مکّار ہے، تم کہاں چکر میں آگئے؟ تمہارے دماغ میں عقل بھی ہے یا نہیں؟ ایسی باتیں سنائیں کہ وہ تو  رونے لگا کہ میرا ہزار میل کا سفر بے کار ہوگیا۔ محلہ والوں نے کہا کہ ان کی بیوی مزاج کی تیز ہے، خبردار! بدگمانی مت کرو۔ جاؤ! شیخ جنگل سے لکڑیاں لے کر آرہے ہوں گے۔ وہاں دیکھا کہ شیر پر بیٹھے ہوئے حضرت شاہ ابوالحسن خرقانی تشریف لارہے ہیں۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 5 1
3 علاج الغضب 6 1
Flag Counter