مضمون کی آمد کیوں بند ہوگئی؟ شاید مجھ سے کوئی خطا ہوگئی ہے، آپ دل میں ڈال دیجیے تاکہ میں تلافی کرسکوں۔ اللہ تعالیٰ نے دل میں الہام فرمایا کہ ہماری ایک مخلوق گُھٹ رہی ہے، مرغیاں بغیر دانہ پانی کے بند ہیں۔ ہماری مخلوق کو گُھٹاکر مضامین کیسے ملیں گے؟ حضرت فوراً دوڑے ہوئے گئے، مرغیاں کھول دیں اور ان کو دانہ پانی دیا۔ بس دل شگفتہ ہوگیا اور علوم پھر آنے لگے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جانوروں کی پیٹھ کو منبر مت بناؤ۔15؎ یعنی گفتگو کرنی ہو تو جانور کی پیٹھ سے اُتر کر بات کرو، یہ نہیں کہ جانور کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے باتیں کررہے ہیں، گھوڑے وغیرہ سفر طے کرنے کے لیے ہیں۔ اسلام جانوروں تک پر رحمت فرماتا ہے، جب جانوروں کے ستانے کی بھی ممانعت ہے تو میرے دوستو! جو بیویوں کو ستاتے ہیں وہ کس قدر عذاب مول لے رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُہُمْ خُلُقًا وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَاءِھِمْ16؎
ترجمہ: کامل الایمان وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں اورتم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کے برتاؤ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے ہیں۔
معلوم ہوا کہ اخلاق کا معیار یہ ہے کہ جس کا سلوک اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہو۔
علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر رُوح المعانی میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شوہر کریم ہوتے ہیں، ان پر عورتیں غالب آجاتی ہیں۔ غالب ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ تیز باتیں کرلیتی ہیں، ناز نخرے دکھادیتی ہیں کیوں کہ ان کو ناز دکھانے کا بھی حق حاصل ہے۔17؎
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے عائشہ! جب تُو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب رُوٹھی ہوتی ہے تو مجھے پتا چل جاتا ہے۔ عرض کیا کہ آپ کیسے جان لیتے ہیں؟ فرمایا کہ جب تُو مجھ سے خوش رہتی ہے تو کہتی ہے وَرَبِّ مُحَمَّدٍ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ربّ کی قسم
_____________________________________________
15؎ ابوداؤد: 347/1، باب فی الوقوف علی الدابۃ ، ایج ایم سعید
16؎ مشکوٰۃ المصابیح: 282، باب عشرۃ النساء ...الخ، المکتب القدیمیہ
17؎ روح المعانی :14/5،داراحیاء التراث، بیروت