Deobandi Books

علاج الغضب

ہم نوٹ :

19 - 50
رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک کشتی میں تشریف فرما ہیں اور فرمایا کہ کچھ فاصلہ پر میری کشتی ہے، اس پر میں اکیلا بیٹھا ہوا ہوں۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بآوازِ بلند حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اے علی(رضی اللہ عنہ)! عبدالغنی کی کشتی کو میری کشتی سے جوڑ دو۔ حضرت نے فرمایا کہ جب میری کشتی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کشتی سے جوڑی تو اس کی کھٹ سے جو آواز آئی آج تک اس کا مزہ آرہا ہے۔ کانوں میں اس کا لطف و لذت سماگئی۔ حضرت شاعر نہیں تھے، مگر اس مزہ کو شعر میں بیان فرمادیا ؎
مضطرب دل  کی تسلّی کے لیے
حکم  ہوتا   ہے   ملا دو  ناؤ  کو
دیکھیے! غصہ کی تلافی و ندامت و معذرت پر کتنا بڑا انعام ملا۔
حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہٗ اپنے وعظ میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا۔ بیوی نے سالن میں نمک تیز کردیا۔ ہاتھ ہی تو ہے، اندازہ نہیں ہوا نمک تیز ہوگیا۔ ہماری بیٹیوں سے اگر غلطی ہوجائے تو ہم کیا چاہتے ہیں؟ کہ داماد معاف کردے، ہماری بیٹیوں کو جب داماد ستاتے ہیں تو ہم بزرگوں سے تعویذ لیتے ہیں، وظیفے پوچھتے پھرتے ہیں، لیکن ہمارے تحت جو بیویاں ہیں وہ بھی تو کسی کی بیٹیاں ہیں ان پر رحم نہیں آتا۔ اپنی بیٹی پر جب پڑتی ہے تو ہمیں تعویذ یاد آتے ہیں۔ اللہ والوں کے پاس جاتے ہیں اور روتے ہیں کہ داماد بہت ظلم کررہا ہے لیکن ہم اپنی بیویوں کو جو ستاتے ہیں، ذرا ذرا سی بات پر ڈانٹ ڈپٹ، بے چاری گُھٹ گُھٹ کے روتی رہتی ہیں،سسرال میں کوئی ان کا ہوتا نہیں، باپ بھائی دُور ہوتے ہیں، لیکن سمجھ لیجیے! ان کی آہ لگتی ہے۔ جب بے زبان مرغیوں کو ایذا پہنچ جانے سے ایک مجددِ وقت  کے قلب پر علوم کی بارش رُک سکتی ہے تو جو لوگ انسانوں کو ستاتے ہیں ان کا کیا حال ہوگا؟
ایک بار پیرانی صاحبہ کہیں باہر تشریف لے گئی تھیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے کہہ گئی تھیں کہ مرغیوں کو کھول کر دانہ پانی ڈال دیجیے گا۔ حضرت بھول گئے۔ اب جو لکھنے بیٹھے تو سارے مضامین اور معرفت کے سارے دریا بند، ایک خط کا جواب بھی نہ لکھ سکے، تفسیر بیان القرآن رُک گئی، کسی کتاب کی تصنیف نہ ہوسکی۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ اے خدا! یہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 5 1
3 علاج الغضب 6 1
Flag Counter