Deobandi Books

علاج الغضب

ہم نوٹ :

17 - 50
ہیں۔ شیخ ایک مرتبہ اپنے ملازم پر ناراض ہوگئے اور فرمایا تم نے کیوں ایسی نالائقی کی؟اس نے کہا حضرت جی معاف کردو، غلطی ہوگئی، انسان ہوں۔ حضرت شیخ نے فرمایا یہ غلطی تو تم نے ایک درجن بار کی ہے، دو چار دفعہ ہو تو معاف کردوں، تم تو بار بار یہی غلطی کررہے ہو، میں تمہیں کتنا بھگتوں؟ مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ شیخ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ شیخ کے کان میں فرمایا کہ مولانا! اتنا بھگت لو جتنا قیامت کے دن اپنا بھگتوانا ہے یعنی اتنا معاف کردو جتنا اپنا معاف کرانا ہے، لہٰذا یہ مت کہو کہ کتنا بھگتوں۔ زیادہ سے زیادہ معاف کردو۔بعض وقت آدمی غصہ میں کہتا ہے کہ کیا صاحب! یہ شخص تو ہر وقت غلطی ہی کرتا ہے، کوئی کام صحیح نہیں کرتا۔ لیکن بھائی بعضوں کی عقل ہی کم ہوتی ہے۔
حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کامل عقل مثلاً ۹۸ ڈگری ہے تو بعض بندوں کو خدا کی طرف سے ساڑھے ستانوے ڈگری ہی ملی ہوئی ہے، بھولے بھالے نادان سے ہوتے ہیں، اپنا بچہ اگر ایسا ہو تو کیا کروگے؟ اس کے ساتھ نرمی و درگزر کا معاملہ کروگے      یا نہیں؟ لہٰذا جس کو اللہ نے جتنی عقل دی ہے اس لحاظ سے اس کا محاسبہ اور مواخذہ کرو،                  ۹۷  ڈگری عقل والے سے ۹۸ ڈگری عقل والے کا محاسبہ نہ کرو۔ لیکن یہ جانتے ہوئے بھی غصہ میں کہتے ہیں کہ نہیں صاحب یہ خوب سمجھتا ہے، ہمیں ستانے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ ایسی احمقانہ چیزیں شیطان پیدا کرتا ہے۔
اچھا ایک بات اور ہے، غصہ والا اپنے کو بہت بڑا آدمی سمجھتا ہے، غصہ کی تہہ میں کِبر پوشیدہ ہوتا ہے، جس پر غصہ آتا ہے اس کی حقارت ذہن میں ہوتی ہے اور اپنی برتری ثابت ہوتی ہے، جس وقت غصہ چڑھتا ہے اس وقت اس کا چہرہ دیکھ لو یا آئینہ سامنے کردو کہ اپنا چہرہ خود دیکھے اور اگر اس کے لب و لہجہ کو ٹیپ کیا جائے اور پھر اسی کو دکھایا جائے کہ جناب کا چہرہ اور لب و لہجہ ایسا تھا تو اس شعر کا مصداق ہوگا؎
رات شیطاں کو خواب میں دیکھا
اس کی صورت جناب کی سی تھی
انسان کو اپنی بیماری کا پتا نہیں چلتا۔ آدمی فوراً کہتا ہے کہ میرا غصہ اللہ کے لیے ہے لیکن اپنا فیصلہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 5 1
3 علاج الغضب 6 1
Flag Counter