لَوْلَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْکَ النَّارُ اَوْ لَمَسَّتْکَ النَّارُ12؎
اگر تُو ایسا نہ کرتا اور غلام پر یہ رحمت نہ دکھاتا تو جہنم کی آگ تجھے جھلسادیتی اور جلا کے خاک کردیتی۔ یہ کون ہیں؟ صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے ہیں۔ آج کس ظالم کا منہ ہے جو کہے کہ میں اتنا تہجد پڑھتا ہوں، صوفی ہوں، اتنا ذکر و فکر کرتا ہوں، میرے غصہ پر کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔ ذرا سوچئے! یہ بات سوچنے کی ہے یا نہیں کہ اپنی عبادت پر اتنا ناز کہ ہم نے تہجد پڑھی ہے لہٰذا مسلمانوں کو، اور بھائیوں کو اور بہنوں کو اور بیویوں کو جس طرح چاہو ستاؤ۔ کوئی قانون نہیں۔ دیکھیے! صحبت یافتۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کے لیے یہ حکم ہو رہا ہے کہ اگر تم نے رحمت نہ کی تو یاد رکھو قیامت کے دن دوزخ کی آگ تم کو لپٹ جائے گی۔ اب کس صوفی کا منہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ میرا غصہ میرے لیے کچھ مضر نہیں۔ میری تو اتنی عبادت ہے، اتنا وظیفہ پڑھتا ہوں، میرے غصہ پر کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ آپ مقبول ہیں؟ صحابی سے گویا بڑھ گیا۔ یہ صوفی جو ایسی باتیں کرتا ہے، یہ گویا دعویٰ کررہا ہے کہ صحابی سے نعوذباللہ اس کا درجہ بڑھ گیا۔
میرے دوستو! لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں مصلح کی کیا ضرورت ہے؟ دیکھیے! صحابی ہیں حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ لیکن مربّی و مصلح کی ضرورت پیش آئی کہ نہیں؟ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مربّی کی ضرورت تھی جو انبیاء علیہم السلام کے بعد تمام انسانوں میں سب سے زیادہ افضل ہیں تو ہم لوگوں کا کیا منہ ہے کہ ہم اپنے کو تربیت کا محتاج نہ سمجھیں۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ایک عزیز سے ناراض ہوگئے اور فرمایا خدا کی قسم! اب میں ان پر کبھی احسان نہ کروں گا،اور جن سے ناراض ہوئے وہ جنگِ بدر لڑے ہوئے تھے، اصحابِ بدر جنگ بدر کی برکت سے اللہ کے یہاں مقبول ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش فرمائی اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغۡفِرَ اللہُ لَکُمۡ13؎ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی جس کے ترجمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اے
_____________________________________________
12؎ صحیح مسلم: 51/2، باب صحبۃ الممالیک، ایج ایم سعید
13؎ النور:22