Deobandi Books

علاج الغضب

ہم نوٹ :

14 - 50
پوچھتے ہیں۔ آخری جز اس لمبی حدیث کا یہ ہےکہ اے فرشتو! گواہ رہنا میں نے ان سب کو بخش دیا۔ فرشتوں نےعرض کیا کہ وہاں ایک بندہ ذکر کے لیے نہیں بیٹھا تھا اِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَۃٍ وہ کسی حاجت سے جارہا تھا، دیکھا کہ کچھ اللہ والے لوگ بیٹھے ہیں، وہ بھی بیٹھ گیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس کو بھی بخش دیا کیوں کہ میں اپنے مقبول بندوں کے پاس بیٹھنے والوں کو محروم نہیں کیا کرتا۔ ہُمُ الْجُلَسَاءُ لَایَشْقٰی جَلِیْسُہُمْ اس کی شرح میں علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اِنَّ جَلِیْسَہُمْ یَنْدَرِجُ مَعَہُمْ فِیْ جَمِیْعِ
 مَایَتَفَضَّلُ اللہُ بِہٖ عَلَیْہِمْ اِکْرَامًا لَّھُمْ 11 ؎
اللہ والوں کے پاس بیٹھنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ مندرج کرلیتا ہے۔ ان تمام انعامات میں جو اللہ والوں کو عطا کیے جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ آگے مفعول لہٗ بیان ہو رہا ہے۔ اِکْرَامًا لَّہُمْ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کا اکرام فرماتے ہیں۔
دیکھیے! جیسے یہاں ڈیرہ غازی خان میں آپ لوگ جو کچھ حضرت والا ہردوئی دامت برکاتہم کو کھلاتے ہیں وہی ہم خادموں کو بھی کھلارہے ہیں کہ نہیں۔ بس جب حِسّی نعمتوں کا یہ حال ہے تو ایسے ہی جنت میں بھی ان شاء اللہ تعالیٰ معاملہ ہوگا۔
جب اولیاء اللہ کی صحبت کا یہ انعام ہے کہ ان کی صحبت کے فیض سے شقاوت سعادت سے تبدیل ہوجاتی ہے اور قلب میں اعمالِ صالحہ کی زبردست ہمت و توفیق عطا ہوجاتی ہے تو صحبتِ نبوّت کے فیضان کا کیا عالم ہوگا؟ حالتِ ایمان میں جس پر نبوت کی نگاہ پڑگئی وہ صحابی ہوگیا اور دنیا  کا بڑے سے بڑا ولی بھی ایک ادنیٰ صحابی کے رُتبہ کو نہیں پاسکتا۔ چناں چہ صحبتِ نبوت کے فیضان سے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو فوراً تنبیہ ہوگئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہُوَ حُرٌّ لِّوَجْہِ اللہِ اس غلام کو میں نے اللہ کے لیے آزاد کردیا۔ اس خطا کی تلافی میں۔ معلوم ہوا کہ خطاؤں کی تلافی بھی ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
_____________________________________________
11؎   فتح الباری: 213/11،باب فضل ذکراللہ عزوجل،دارالمعرفۃ،بیروت
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 5 1
3 علاج الغضب 6 1
Flag Counter