فرمایا کہ یہ بڑے میاں کون ہیں؟ عرض کیا گیا کہ یہ وہی بڑے میاں ہیں جو کس حالت میں تھانہ بھون گئے تھے۔ حضرت ان کی داڑھی دیکھ کر خوش ہوگئے۔
حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان کا خاتمہ بڑا اچھا ہوا۔ تین دن تک گھر میں روتے رہے۔ اللہ کا خوف طاری ہوگیا۔ کمرے میں ادھر سے اُدھر ایک دیوار سے دوسری دیوار تک تڑپ کے جاتے تھے اور روتے تھے۔ اسی طرح رو رو کے جان دے دی اور اسی خوف کی حالت میں اللہ کے پاس چلے گئے۔ اور اپنے دیوان میں یہ اشعار بڑھادیےتھے؎
مری کھل کر سیہ کاری تو دیکھو
اور ان کی شانِ ستّاری تو دیکھو
گڑا جاتا ہوں جیتے جی زمیں میں
گناہوں کی گراں باری تو دیکھو
ہوا بیعت حفیظؔ اشرف علی سے
بایں غفلت یہ ہشیاری تو دیکھو
واقعی بڑی ہشیاری ہے۔مبارک وہ بندہ ہے، بہت ہی مبارک بندہ ہے وہ جو اللہ والوں سے تعلق کرلے، جو اللہ کے دوستوں سے دوستی کرلے۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ یہ ہماروں کا ہمارا ہے، یہ ہمارے دوستوں کا دوست ہے، لہٰذا اس پر بھی فضل فرمادیتے ہیں اور اس کو بھی اپنا بنالیتے ہیں، اللہ والوں کی صحبت سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہُمُ الْجُلَسَاءُ لَایَشْقٰی جَلِیْسُہُمْ10؎ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے پاس بیٹھنے والا شقی نہیں رہ سکتا۔ اس کی شقاوت کو سعادت سے اللہ تعالیٰ بدل دیتے ہیں۔ یہ لمبی حدیث ہے جس کا ایک جز یہ ہے کہ اللہ والوں کی مجلس میں ایک شخص غیرمخلص تھا، وہ وہاں اللہ کے لیے نہیں بیٹھا تھا، کسی ضرورت سے جارہا تھا کہ وہاں بیٹھ گیا، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے پوچھا کہ میرے بندے کیا کررہے تھے؟ اللہ تعالیٰ کو تو سب معلوم ہے لیکن اپنے بندوں پر فخر و مباہات فرمانے کے لیے
_____________________________________________
10؎ صحیح البخاری: 948/2(6443) ، باب فضل ذکراللہ تعالٰی، المکتب القدیمیہ