جی اُٹھے مُردے تری آواز سے
یہ آوازِ نبوّت تھی جس سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل زندہ ہوتے تھے، امراض کی اصلاح ہوجاتی تھی۔ بس اللہ تعالیٰ نے صحبتِ نبوّت کے فیضان کی برکت سے فوراً ہدایت عطا فرمادی۔ اللہ والوں کی صحبت سے قلب میں اعمالِ صالحہ کی ایک زبردست قوت و ہمت اور توفیق پیدا ہوجاتی ہے۔ چالیس چالیس سال سے انسان جس گناہ کو چھوڑنے کی طاقت نہ پاتا ہو اللہ والوں کے پاس چند دن رہ کرکے دیکھے کہ کیا ہوتا ہے۔
حضرت شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا اور یہ بات حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بتائی کہ میں تمہیں تمہارے پیر کی ایک بات بتاتا ہوں۔ کسی نے حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ پارس میں یہ خاصیت کیوں ہے کہ لوہا اس سے چھوتے ہی سونا بن جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ فرمایا کیوں کیا مت پوچھو، لوہے کو پارس سے لگادو پھر آنکھوں سے دیکھو کہ لوہا سونا بنتا ہے یا نہیں، پوچھنا کیا ہے، مشاہدہ کرلو۔ دیکھو کیسے کیسے شرابی، کبابی صحبت کی برکت سے اللہ والے بن گئے۔ جگر مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اللہ والے بن گئےاور جون پور کے ایک شاعر جن کا نام عبدالحفیظ تھا، شراب پیتے تھے۔ یہ سن کر تھانہ بھون گئے کہ وہاں انسان، انسان بنتے ہیں۔ شاید یہ شرابی بھی انسان بن جائے۔ حضرت شاہ عبدالغنی صاحب نے فرمایا کہ عبد الحفیظ شاعر حضرت سے بیعت ہوگئے اور بیعت بھی کیسے ہوئے کہ خانقاہ تھانہ بھون میں چند دن قیام سے داڑھی جو تھوڑی سی بڑھ گئی تھی وہ بیعت ہونے سے پہلے منڈوالی اور حضرت تھانوی سے درخواست کی کہ حضرت مجھے بیعت کرلیجیے۔ حضرت نے فرمایا کہ جب بیعت ہی ہونا تھا تو اللہ کا نور جو چہرہ پر آگیا تھا اس کو کیوں صاف کیا؟ عرض کیا کہ حضرت آپ حکیم الامت ہیں، میں مریض الامت ہوں۔ مریض کو چاہیے کہ حکیم کے سامنے اپنا سارا مرض پیش کردے تاکہ نسخہ اسی طاقت سے لکھا جائے۔ یہ عمل تو بظاہر صحیح نہیں تھا لیکن چوں کہ نیت اچھی تھی اس لیے حضرت نے اس پر گرفت نہیں فرمائی۔ پھر خود ہی عرض کیا کہ اب کبھی داڑھی پر اُسترا نہیں لگاؤں گا۔ حضرت نے بیعت فرمالیا۔ یہ جون پور آگئے۔ ایک سال کے بعد حضرت وعظ کے سلسلے میں جون پور تشریف لے گئے، دیکھا کہ ایک بڑے میاں کھڑے ہیں، ایک مشت داڑھی رکھے ہوئے۔