Deobandi Books

علاج الغضب

ہم نوٹ :

11 - 50
کا مزہ نہیں آئے گا کیوں کہ غصہ نے اس کے ایمان کے کمال اور نور کو خراب کردیا۔
چھٹی حدیث ہے کہ مَنْ کَفَّ غَضَبَہٗ کَفَّ اللہُ عَنْہُ عَذَابَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ9؎ جو شخص اپنے غصہ کو روک لے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا  عذاب اس سے روک لیں گے۔ظاہر بات ہے کہ غصہ روکنے میں تکلیف ہوتی ہے اور اس نے اللہ کے لیے یہ تکلیف اُٹھائی لہٰذا اس مجاہدہ پر اتنا بڑا انعام ہے۔اوریہ مجاہدہ بھی اہل اللہ کی صحبت کی برکت سے آسان ہوجاتا ہے۔ ایک حکایت یاد آئی۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک شخص نے لکھا کہ حضرت مجھ میں غصہ کا مرض ہے۔ اس کا علاج عطا فرمائیے۔ حضرت نے ان کو تحریر فرمایا کہ آپ لکھنؤ میں انوار بک ڈپو کے مالک مولوی محمد حسن کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں جایا کیجیے۔ کچھ عرصہ بعد اس شخص نے حضرت حکیم الامت کو لکھا کہ حضرت میرا غصہ جاتا رہا۔ میں مولوی صاحب کی خدمت میں جاتا رہتا ہوں لیکن انہوں نے تو کبھی غصہ کے متعلق مجھے کوئی نصیحت بھی نہیں کی۔ یہ کیا بات ہے کہ مجھے اتنا فائدہ ہوا۔ حضرت نے فرمایا کیوں کہ مولوی صاحب حلیم الطبع ہیں۔ ان کے دل میں صبر و حلم اور برداشت کا مادّہ بہت ہے۔ ان کے قلب کی صفتِ حلم آپ کے قلب میں منتقل ہوگئی۔
ساتویں حدیث: ایک صحابی حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کُنْتُ اَضْرِبُ غُلَامًالِّیْ میں اپنے ایک مملوک غلام کی پٹائی کررہا تھا،فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِیْ صَوْتًا میں نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے ایک آواز سنی۔ وہ کیا آواز تھی؟
اِعْلَمْ اَبَا مَسْعُوْدٍ لَلہُ اَقْدَرُ عَلَیْکَ مِنْکَ عَلَیْہِ
یہ کلامِ نبوّت کی بلاغت ہے کہ چند ضمیروں میں دو سطر کا مضمون بیان فرمادیا۔ اگر ہم اُردو میں اس کا ترجمہ کریں تو ڈیڑھ دو سطر ہوجائیں گی۔ فرمایا کہ اے ابو مسعود! اللہ تعالیٰ کو تجھ پر زیادہ قدرت ہے اس قدرت سے جو تجھ کو اس غلام پر حاصل ہے جس کو تو پیٹ رہا ہے۔ فرماتے ہیں فَالْتَفَتُّ میں نے متوجہ ہوکر دیکھا کہ کہاں سے یہ آواز آئی فَاِذَا ہُوَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، یہ آپ کی آواز تھی   ؎
_____________________________________________
9؎  مشکوٰۃالمصابیح: 434، باب الغضب والکبر ،  المکتب القدیمیہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 5 1
3 علاج الغضب 6 1
Flag Counter