Deobandi Books

تلخیص علوم القرآن - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

9 - 73
اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ قرآن کریم کا دوسرا تدریجی نزول جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قلب مبارک پر ہوا، اس کا آغاز اس وقت ہوا جب آپؐ کی عمر چالیس(٤٠) سال تھی، اس نزول کی ابتداء بھی صحیح قول کے مطابق لیلۃ القدر میں ہوئی ہے ، اور یہی وہ تاریخ تھی جس میں چند سال بعد غزوۂ بدر پیش آیا، لیکن یہ رات رمضان کی کونسی تاریخ میں تھی ؟ اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی ، بعض روایات سے رمضان کی سترھویں ، بعض سے انیسویں اور بعض سے ستائسویں شب معلوم ہوتی ہے (تفسیر ابن جریرؒ، ۱۰ ١٠/۷٧)
سب سے پہلے نازل ہونے والی آیت :۔ صحیح قول یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن کریم کی سب سے پہلی جو آیتیں اُتریں وہ سورہ علق کی ابتدائی آیات ہیں ، صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ اس کا واقعہ یہ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر نزول وحی کی ابتداء تو سچے خوابوں سے ہوئی تھی، اس کے بعد آپؐ کو خلوت میں عبادت کرنے کا شوق پیدا ہوا، اور اس دوران آپؐ غار حراء میں کئی کئی راتیں گزارتے ، اور عبادت میں مشغول رہتے تھے ، یہاں تک کہ ایک دن اسی غار میں آپؐ کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتہ آیا اور اس نے سب سے پہلی بات یہ کہ  اِقْرَأ (یعنی پڑھو) حضورؐ نے فرمایا کہ ’’ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ‘‘ اس کے بعد خود حضورؐ نے واقعہ بیان کیا کہ میرے اس جواب پر فرشتے نے مجھے پکڑا اور مجھے اس زور سے بھینچا کہ مجھ پر مشقت کی انتہا ہو گئی ، پھر اس نے مجھے چھوڑ کر کہا کہ اِقْرأ، میں نے جواب دیا کہ ’’ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ‘‘ اس پر اُس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑا اور بھینچ کر چھوڑ دیا، پھر کہا :۔
’’اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ o خَلَقَ الْاِنْسَانَ مَنْ عَلَقَ o اِقْرَأ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ ….الخ،  (۹۶: ۱ تا ۵)
’’پڑھو اپنے اس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو منجمد خون سے پیدا کیا، پڑھو ، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کریم ہے ۔‘‘ الخ
Flag Counter