Deobandi Books

تلخیص علوم القرآن - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

10 - 73
یہ آپ پر نازل ہونے والی پہلی آیات تھیں ، اس کے بعد تین سال تک وحی کا سلسلہ بند رہا ، اسی زمانہ کو ’’فَتْرَتِ وَحِی ‘‘ کا زمانہ کہتے ہیں ، پھر تین سال کے بعد وہی فرشتہ جو غار حراء میں آیا تھا، آپؐ کو آسمان و زمین کے درمیان دکھائی دیا، اور اس نے سورۂ مدّثّر کی آیات آپؐ کو سُنائیں ، اس کے بعد وحی کا سلسلہ جاری ہو گیا،
مکّی اور مدَنی آیات :۔ آپ نے قرآن کریم کی صورتوں کے عنوان میں دیکھا ہو گا کہ کسی سورۃ کے ساتھ مکّی اور کسی کے ساتھ مدنی لِکھا ہوتا ہے ، اس کا صحیح مفہوم سمجھ لینا ضروری ہے مفسرین کی اصطلاح میں ’’مکی آیت ‘‘ کا مطلب وہ آیت ہے جو آپؐ کے بغرضِ ہجرت مدینہ طیبہ پہنچنے سے پہلے پہلے نازل ہوئی ، اور ’’مدنی آیت‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ آپؐ کے مدینہ پہنچنے کے بعد نازل ہوئی، بعض لوگ مکی کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شہر مکہ میں نازل ہوئی ، اور مدنی کا یہ کہ وہ شہر مدینہ میں اُتری ، لیکن یہ مطلب درست نہیں ،اس لیے کہ کئی آیتیں ایسی ہیں جو شہر مکہ میں نازل نہیں ہوئیں لیکن چونکہ ہجرت سے پہلے نازل ہو چکی تھیں اس لیے انہیں مکی کہا جاتا ہے ، چنانچہ جو آیات منٰی، عرفات یا سفرِ معراج کے دوران نازل ہوئی وہ بھی مکی کہلاتی ہیں ، یہاں تک کہ جو آیتیں سفرِ ہجرت کے دوران مدینہ کے راستہ میں نازل نہیں ہوئیں ، مگر وہ مدنی ہیں ، چنانچہ ہجرت کے بعد آپؐ کو بہت سے سفر پیش آۓ جن میں آپؐ مدینہ طیبہ سے سیکڑوں میل دور بھی تشریف لے گۓ، ان تمام مقامات پر نازل ہونے والی آیتیں مدنی ہی کہلاتی ہیں ، یہاں تک کہ اُن آیتوں کو بھی مدنی کہا جاتا ہے جو فتح مکہ یا غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر خاص شہر مکہ یا اس کے مضافات میں نازل ہوئیں ، چنانچہ آیت قرآنی : اِنَّ اللہَ یَأ مُرُ کُمْ اَنْ تُؤْدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلیٰٓ اَھْلِھَا مدنی ہے ، حالانکہ وہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی (البرہان، ١۱ /٨٨۱۸۸  اور مناہل العرفان، ١۱ /٨٨۱۸۸١٨٨)
پھر بعض سورتیں تو ایسی ہیں کہ وہ پوری کی پوری مکی یا پوری کی پوری مدنی ہیں ، مثلاً سورہ مدثر پوری مکی ہے ، اور سورہ آلِ عمران پوری مدنی، لیکن بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ پوری سورت مکی ہے ، لیکن اس میں ایک یا چند آیات مدنی بھی آ گئی ہیں ، اور 
Flag Counter