تاریخ نزولِ قرآن
قرآن کریم دراصل کلام الٰہی ہے ، اس لیے ازل سے لوح محفوظ میں موجود ہے ، قرآن کریم کا ارشاد ہے بَلْ ھُوَقُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (بلکہ یہ قرآن مجید ہے ، لوح محفوظ میں )۔
پھر لوحِ محفوظ سے اس کا نزول دو مرتبہ ہوا ہے ، ایک مرتبہ یہ پورے کا پورا آسمان دنیا کے بیتِ عزّت میں نازل کر دیا گیا تھا، بیت عزّت (جسے البیت المعمور بھی کہتے ہیں ) کعبۃ اللہ کے محاذات میں آسمان پر فرشتوں کی عبادت گاہ ہے ، یہ نزول لیلۃ القدر میں ہوا تھا ، پھر دوسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر تھوڑا تھوڑا کر کے حسبِ ضرورت نازل کیا جاتا رہا ، یہاں تک کہ تیتیس سال میں اس کی تکمیل ہوئی ، نزول قرآن کی یہ دو صورتیں خود قرآن کریم کے انداز بیان سے بھی واضح ہیں ، اس کے علاوہ نسائیؒ بیہقیؒ اور حاکمؒ وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے متعدد روایتیں نقل کی ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے کہ قرآن کریم کا پہلا نزول یکبارگی آسمان دنیا پر ہوا اور دوسرا نزول بتدریج آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر (اتقان، ۱١/۳۱٤١)
قرآن کریم کو پہلی مرتبہ آسمان دنیا پر نازل کرنے کی حکمت امام ابو شامہؒ نے یہ بیان کی ہے کہ اس سے قرآن کریم کی فرعتِ شان کو ظاہر کرنا مقصود تھا، اور ملائکہ کو یہ بات بتانی تھی کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے جو اہل زمین کی ہدایت کے لیے اُتاری جانے والی ہے ،
شیخ زر قانیؒ نے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ اس طرح دو مرتبہ اُتارنے سے یہ بھی جَتانا مقصود تھا کہ یہ کتاب ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قلب مبارک کے علاوہ یہ دو جگہ اور بھی محفوظ ہے ، ایک لوحِ محفوظ میں اور دوسرے بیت عزّت میں (مناہل العرفان،١۱/٣٩۳۹) واللہ اعلم۔