Deobandi Books

تلخیص علوم القرآن - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

7 - 73
رکھا ہوا تھا، کہ اسی حالت میں وحی نازل ہونی شروع ہو گئی ، اس سے حضرت زیدؓ کی ران پر اتنا بوجھ پڑا کہ وہ ٹوٹنے لگی(زادا المعاد ۱/۱۸ و ۱۹١١)
بعض اوقات اس وحی کی ہلکی ہلکی آواز دوسروں کو بھی محسوس ہوتی تھی، حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب آپؐ پر وحی نازل ہوتی تو آپؐ کے چہرہ انور کے قریب شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سُنائی دیتی تھی(تبویب مسند احمدؒ کتاب السیرۃ النبویۃ ۲۰٢٠/۲۱۲٢١٢)
وحی کی تیسری صورت یہ تھی کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کسی انسان کی شکل اختیار کیے بغیر اپنی اصلی صورت میں دکھائی دیتے تھے ، لیکن ایسا آپؐ کی تمام عمر میں صرف تین مرتبہ ہوا ہے ، ایک مرتبہ اس وقت جب آپ نے خود حضرت جبرئیل علیہ السالم کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی، دوسری مرتبہ معراج میں اور تیسری بار نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے میں مکہ مکرمہ کے مقام اجیاد پر ، پہلے دو واقعات تو صحیح سَند سے ثابت ہیں ،البتہ یہ آخری واقعہ سنداً کمزور ہونے کی وجہ سے مشکوک ہے (فتح الباری ١١٩،۱/۱۸ و ۱۹١١٨)
چوتھی صورت براہ راست اور بلا واسطہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہمکلامی کی ہے ، یہ شرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بیداری کی حالت میں صرف ایک بار، یعنی معراج کے وقت حاصل ہوا ہے ، البتہ ایک مرتبہ خواب میں بھی آپؐ اللہ ت عالیٰ سے ہمکلام ہوۓ ہیں (اتقان، ١۱/۴۶٤٦)
وحی کی پانچویں صورت یہ تھی کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کسی بھی صورت میں سامنے آۓ بغیر آپؐ کے قلبِ مبارک میں کوئی بات اِلقاء فرما دیتے تھے ، اسے اصطلاح میں ’’ نفث فی الرّوع‘‘ کہتے ہیں (ایضاً)
 
Flag Counter