علیہ و سلم نے فرمایا کہ کبھی تو مجھے گھنٹی کی سی آواز سُنائی دیتی ہے ، اور وحی کی یہ صورت میرے لیے سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے ، پھر جب یہ سلسلہ ختم ہوتا ہے تو جو کچھ اس آواز نے کہا ہوتا ہے ، مجھے یاد ہو چکا ہوتا ہے ، اور کبھی فرشتہ میرے سامنے ایک مرد کی صورت میں آ جاتا ہے ، (صحیح بخاریؒ١۲/٢۱)
اس حدیث میں آپؐ نے ’’وحی‘‘ کی آواز کو گھنٹیوں کی آواز سے جو تشبیہ دی ہے شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایک تو وحی کی آواز گھنٹی کی طرح مسلسل ہوتی ہے اور بیچ میں ٹوٹتی نہیں دوسرے گھنٹی جب مسلسل بجتی ہے تو عموماً سننے والے کو اس کی آواز کی سمت متعین کرنا مشکل ہوتا ہے ، کیونکہ اس کی آواز ہر جہت سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ، اور کلام اِلٰہی کی بھی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی کوئی ایک سمت نہیں ہوتی ، بلکہ ہر جہت سے آواز سُنائی دیتی ہے ، اس کیفیت کا صحیح ادراک تو بغیر مشاہدہ کے ممکن نہیں ، لیکن اس بات کو عام ذہنوں سے قریب کرنے کے لیے آپؐ نے اسے گھنٹیوں کی آواز سے تشبیہہ دے دی ہے (فیض الباری، ۱/ ۱۹ و ۲۰)
جب اس طریقے سے آپؐ پر وحی نازل ہوتی تو آپؐ پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا تھا، حضرت عائشہؓ اسی حدیث کے آخر میں فرماتی ہیں کہ میں نے سخت جاڑوں کے دن میں آپؐ پر وحی نازل ہوتے ہوۓ دیکھی ہے ، ایسی سردی میں بھی جب وحی کا سلسلہ ختم ہوتا تو آپؐ کی مبارک پیشانی پسینہ سے شرابور ہو چکی ہوتی تھی، ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں ، کہ جب آپؐ پر وحی نازل ہوتی تو آپؐ کا سانس رُکنے لگتا چہرہ انور متغیر ہو کر کھجور کی شاخ کی طرح زرد پڑ جاتا، سامنے کے دانت سردی سے کپکپانے لگتے ، اور آپؐ کو اتنا پسینہ آتا کہ اس کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگتے تھے (الاتقان ۱١/٤۴۶٦)
وحی کی اس کیفیت میں بعض اوقات اتنی شدت پیدا ہو جاتی کہ آپؐ جس جانور پر اُس وقت سوار ہوتے وہ آپؐ کے بوجھ سے دب کر بیٹھ جاتا ، اور ایک مرتبہ آپؐ نے اپنا سر اقدس حضرت زیدؓ بن ثابت کے زانو پر