مقصد کے تحت یہاں بھیجا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اُسے بالکل اندھیرے میں چھوڑ دیا ہو، اور اُسے یہ تک نہ بنایا ہو کہ وہ کیوں اس دنیا میں آیا ہے ؟ یہاں اس کے ذمہ کیا فرائض ہیں ؟ اس کی منزل مقصود کیا ہے ؟ اور وہ کس طرح اپنے مقصد زندگی کو حاصل کر سکتا ہے ؟ کیا کوئی شخص جس کے ہوش و حواس سلامت ہوں ایسا کر سکتا ہے کہ اپنے کسی نوکر کو ایک خاص مقصد کے تحت کسی سفر پر بھیجدے ، اور اُسے نہ چلتے وقت سفر کا مقصد بتاۓ ، اور نہ بعد میں کسی پیغام کے ذریعہ اس پر یہ واضح کرے کہ اسے کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے ؟ اور سفر کے دوران اس کی ڈیوٹی کیا ہو گی ؟ جب ایک معمولی عقل کا انسان بھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا تو آخر اس خداوندِ قدوس کے بارے میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے جس کی حکمت بالغہ سے کائنات کا یہ سارا نظام چل رہا ہے ؟ یہ آخر کیسے ممکن ہے کہ جس ذات نے چاند ، سورج ،آسمان ، زمین ، ستاروں اور سیاروں کا ایسا محیر العقول نظام پیدا کی ہو وہ اپنے بندوں تک پیغام رسانی کا کوئی ایسا انتظام بھی نہ کر سکے جس کے ذریعہ انسانوں کو ان کے مقصدِ زندگی سے متعلق ہدایات دی جا سکیں ؟ اگر اللہ تعالٰی کی حکمت بالغہ پر ایمان ہے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس نے اپنے بندوں کو اندھیرے میں نہیں چھوڑا، بلکہ ان کی رہنمائی کے لیے کوئی باقاعدہ نظام ضرور بنایا ہے ، بس رہنمائی کے اسی باقاعدہ نظام کا نام وحی و رسالت ہے ،
اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ ’’وحی‘‘ محض ایک دینی اعتقاد ہی نہیں بلکہ ایک عقلی ضرورت ہے ، جس کا انکار در حقیقت اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا انکار ہے ۔
حضورؐ پر نزولِ وحی کے طریقے :۔ وحی و رسالت کا یہ مقدس سلسلہ سرکار دو عالم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم پر ختم ہو گیا ۔ اب کسی انسان پر نہ وحی نازل ہو گی اور نہ اس کی ضرورت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر مختلف طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھی ، صحیح بخاریؒ کی ایک حدیث میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشامؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کس طرح آتی ہے ؟ تو آنحضرت صلی اللہ