۴٤۔ ہر سورت جس میں جہاد کی اجازت یا اس کے احکام مذکور ہیں ، مدنی ہے ۔
۵٥ ۔ ہر وہ آیت جس میں منافقوں کا ذکر آیا ہے ، مدنی ہے ،۔
اور مندرجہ ذیل خصوصیات عمومی اور اکثری ہیں ، یعنی کبھی کبھی ان کی خلاف بھی ہو جاتا ہے لیکن اکثر و بیشتر ایسا ہی ہوتا ہے ۔
۱١ ۔ مکی سورتوں میں عموماً ’’ یٓاایُّھَا النَّاسُ ‘‘ (اے لوگو) کے الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے ، اور مدنی سورتوں میں یَآاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا (اے ایمان والو) کے الفاظ سے۔
۲٢ ۔ مکی آیتیں اور سورتیں عموماً چھوٹی چھوٹی اور مختصر ہیں ، اور مدنی آیات و سُور طویل اور مفصل ہیں۔
۳٣ ۔ مکی سورتیں زیادہ تر توحید، رسالت اور آخرت کے اثبات ، حشر و نشر کی منظر کشی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو صبر و تسلّی کی تلقین اور پچھلی امتوں کے واقعات پر مشتمل ہیں ، اور ان میں احکام و قوانین کم بین ہوۓ ہیں ، اس کے برعکس مدنی سورتوں میں خاندانی اور تمدنی قوانین، جہاد و قتال کے احکام اور حدود و فرائض بیان کیے گۓ ہیں ،
۴۔ مکی سورتوں میں زیادہ تر مقابلہ بت پرستوں سے ہے
۵٤ ۔ مکی سورتوں کا اُسلوب بیان زیادہ پر شکوہ ہے ، اس میں استعارات و تشبیہات اور تمثیلیں زیادہ سادہ ہے ،
مکی اور مدنی سورتوں کے انداز و اسلوب میں یہ رق دراصل حالات، ماحول اور مخاطبوں کے اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوا ہے مکی زندگی میں مسلمانوں کا واسطہ چونکہ زیادہ تر عرب کے بُت پرستوں سے تھا، اور کوئی اسلامی ریاست وجود میں نہیں آئی تھی، اس لیے اس دور میں زیادہ زور عقائد کی درستی، اخلاق کی اصلاح، بُت پرستوں