بعض مرتبہ اس کے برعکس بھی ہوا ہے ، مثلاً سورہ اعراف مکی ہے ، لیکن اس میں : وَ اسْاَلْھُمْ عَنِالْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ سے لے کر وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْبَنِٓی اٰدَمَ الخ (۷:۱۶۳) تک کی آیات مدنی ہیں ، اسی طرح سورہ حج مدنی ہے لیکن اس میں چار آیتیں یعنی : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَلَا نَبِیِّ اِلَّا اِذَ ا تَمَنّٰی سے لے کر عَذَابَ یَوْمٍ عَقِیْمٍ تک مکی ہیں (۲۲:۵۲۔۵۵)۔
اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی سورت کا مکہ یا مدنی ہونا عموماً اس کی اکثر آیتوں کے اعتبار سے ہوتا ہے ، اور اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جس سورت کی ابتدائی آیات ہجرت سے پہلے نازل ہو گئیں اُسے مکی قرار دیدیا گیا ، اگر چہ بعد میں اس کی بعض آیتیں ہجرت کے بعد نازل ہوئیں ہوں ، (مناہل العرفان، ۱ /۱۹۲)
مکہ و مدنی آیتوں کی خصوصیات :۔ علماء تفسیر نے مکی اور مدنی سورتوں کا استقراء کر کے ان کی بعض ایسی خصوصیات بین فرمائی ہیں جن سے پہلی نظر میں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سورت مکی ہے یا مدنی؟ ان میں سے بعض خصوصیات قاعدہ کلیہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اور بعض اکثری ہیں ، قواعد کلیہ یہ ہیں :۔
۱١۔ ہر وہ سورت جس میں لفظ کَلَّا (ہر گز نہیں ) آیا ہے ، وہ مکی ہے ، یہ لفظ پندرہ سورتوں میں ٣٣ مرتبہ استعمال ہوا ہے ، اور یہ ساری آیتیں قرآن کریم کے آخری نصف حصہ میں ہیں ۔
۲٢ ۔ ہر وہ سورت جس میں (حنفی مسلک کے مطابق) کوئی سجدے کی آیت آتی ہے ، مکی ہے ۔
۳٣ ۔ سورہ بقرہ کے سوا ہر وہ سورت جس میں آدمؑ و ابلیس کا واقعہ مذکور ہے وہ مکی ہے ۔ (یہ قاعدہ اتقان وغیرہ سے ماخوذ ہے اور یہ اس قول کے مطابق تو درست ہےجس کی رو سے سورۂ حج مکی ہے، لیکن اگر اسے مدنی قرار دیا جاۓ جیسا کہ بعض صحابہؓ و تابعین سے مروی ہے تو سورۂ حج اس قاعدے سے مستثنیٰ ہو گی۔ محمد تقی عثمانی)