Deobandi Books

تلخیص علوم القرآن - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

13 - 73
کی مدلل تردید اور قرآن کریم کی شانِ اعجاز کے اظہار پر دیا گیا، اس کے بر خلاف مدینہ طیبہ میں ایک اسلامی ریاست وجود میں آ چکی تھی، لوگ جُوق در جُوق اسلام کے ساۓ تلے آ  رہے تھے ، علمی سطح پر بُت پرستی کا ابطال ہو چکا تھا اور تمام تر نظریاتی مقابلہ اہل کتاب سے تھا، اس لیے یہاں احکام و قوانین اور حدود و فرائض کی تعلیم اور اہل کتاب کی تردید پر زیادہ توجہ دی گئی ، اور اسی کے مناسب اسلوب بیان اختیار کیا گیا ۔
قرآن کریم کا تدریجی نزول :۔ پیچھے آ چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن کریم دفعۃً اور یکبارگی نازل نہیں ہوا، بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے تقریباً تیئیس سال میں اُتارا گیا ہے ، بعض اوقات جبرئیل علیہ السلام ایک چھوٹی سی آیت بلکہ آیت کا کوئی ایک جُز لے بھی تشریف لے آتے ، اور بعض مرتبہ کئی کئی آیتیں بیک وقت نازل ہو جاتیں ، قرآن کریم کا سب سے چھوٹا حصہ جو مستقلاً نازل ہوا وہ غَیْرُ اُولِی الضَّرَر، (نساء: ٩٤) ہے جو ایک  طویل آیت کا ٹکڑا ہے دوسری طرف پوری سورہ انعام ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے (ابن کثیر ٢/١٢٢)
قرآن کریم کو یکبار گی نازل کرنے کے بجاۓ تھوڑا تھوڑا کرے کیوں نازل کیا گیا ؟ یہ سوال خود خود مشرکین عرب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا تھا، باری تعالیٰ نے اس سوال کا جواب خود ان الفاظ میں دیا ہے :۔
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا لَو لَا نُزِّ لَ عَلَیْہِ الْقُراٰنُ جُمْلَۃً وَّحِدَۃً ، کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہٰ فُؤَا دَکَ وَرَتَّلْنَا ہُ تَرْتِیْلا ہ وَلَا یَأتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلًّاجِئْنَا بِا لْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْراً (الفرقان : ٣٢ ، ٣٣)
’’اور کافروں نے کہا کہ آپ پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ؟ اسی طرح )ہم نے قرآن کو تدریجاً اتارا ہے ) تاکہ ہم آپؐ کے دل کو مطمئن کر دیں ، اور ہم نے اس کو رفتہ رفتہ پڑھا ہے ، اور وہ کوئی بات آپ کے پاس نہیں لائیں گے ، مگر ہم آپ کے پاس حق لائیں گے ، اور (اس کی ) عمدہ تفسیر پیش کریں گے ‘‘
Flag Counter