کا حکم دیا۔ مناظر اسلام، مولانا لال حسینؒ اختر نے اپنے ذاتی نسخہ سے کتابت کی اجازت دی اور مصنف مرحوم کے نسخہ جس میں ترامیم واضافے تھے۔ اسے سامنے رکھاگیا۔ جتنی کتابت ہوتی جاتی وہ میر عبدالقیوم صاحب کو بھجوادی جاتی۔ وہ پروف پڑھتے رہے یوں مختصر عرصہ میں کتاب چھپنے کے لئے تیار ہوگئی۔ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا اور اس نسخہ کے پھر کئی بار ایڈیشن مجلس نے شائع کئے۔‘‘ اب اسے سرگودھا کا ایک اہلحدیث ادارہ شائع کر رہا ہے۔
اس کتاب کے علاوہ مولانا حافظ محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی کے ردقادیانیت پر کئی رسائل بھی شائع ہوئے۔ کس طرح اپنے دلی درد کا اظہار کیا جائے کہ وہ تمام رسائل میسر نہ آئے۔ بہت ساری لائبریریوں کو چھان مارا بعض حضرات کو خطوط بھی لکھے۔ لیکن سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ ملا۔ دنیا کو کیاہو گیا ہے۔ فا لیٰ اﷲ المشتکی!
حضرت مولانا پروفیسر ساجد میر خوب آدمی ہیں۔ عرصہ ہوا اپنے مخدوم مولانا محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی کی لائبریری دیکھنے کے لئے اجازت طلب کی۔ کئی بار خطوط کا جواب نہ ملا۔ پھر خود تاریخ مقرر کر کے حاضری کا فقیر نے اعلان پر مشتمل عریضہ لکھا۔ جواب ملا لائبریری بن رہی ہے۔ کچھ عرصہ بعد قابل استفادہ ہوگی۔ چنانچہ چھ ماہ بعد خود جا دھمکا۔ پروفیسر صاحب تو موجود نہ تھے۔ ان کے بعد جو صاحب لائبریری سے استفادہ کی اجازت کے مجاز تھے انہوں نے مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کے رسائل پر مشتمل احتساب قادیانیت کی جلد دیکھ رکھی تھی۔ یہ نسبت کام کر گئی۔ انہوں نے آنکھوں پر بٹھایا (افسوس کہ اس محسن کا نام یاد نہیں ہے۔ جس حالت میں ہیں اﷲ تعالیٰ انہیں خوش رکھیں) لائبریری میں داخلہ کی اجازت مل گئی۔ تمام تھکاوٹ دروازہ سے باہر رکھ کر تازہ دم اندر قدم رکھا۔ متعلقہ حصہ لائبریری دیکھا تو پھر کمر ٹوٹ گئی کہ مکمل رسائل وہاں بھی موجود نہیں تھے۔ جو موجود تھے انہوں نے فوٹو کرادئیے۔ غالباً اس سفر میں حضرت مولانا فقیر اﷲ اختر کی ہمراہی کا مجھے شرف حاصل تھا۔ اب سالہاسال بعد میسر آجانے والے رسال کی اشاعت کی باری آئی ہے۔ مالا یدرک کلہ لایترک کلہ کے فارمولا کے تحت ان رسائل کو شامل اشاعت کر رہے ہیں۔ لیکن ’’آج میرے دل میں درد سوا ہے‘‘ کے تحت جان نکلی جارہی ہے کہ کاش تمام رسائل مل جاتے۔ ہمیں کل بارہ رسائل میسر آئے۔
رسالہ فص ختم النبوۃ پر سلسلہ تبلیغ نمبر۲۸ درج ہے۔ باقی کہاں؟ ایک رسالہ پر کھلی چٹھی نمبر۲ ہے۔ پہلی چٹھی نہ مل سکی۔ ایک رسالہ تردید مغالطات مرزائی نمبر۲ درج ہے۔ پہلا نمبر اور اس کے بعد والے نہ مل سکے۔ مل جاتے تو سونے پر سوہاگہ ہوتا۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد کوئی کرم فرماحاتم طائی کے ریکارڈ کو توڑ دے تو وہ بھی کسی جلد میں شائع کر دیںگے۔ ورنہ کم ترک الاولون للاخرون ہی پر معاملہ چھوڑتے ہیں۔ جو بارہ رسائل ملے وہ یہ ہیں۔
۱… فبہت الذی کفر: یہ فروری۱۸۹۸ء میں شائع ہوا۔ صدر بازار سیالکوٹ میں قادیانی عبادت گاہ کے ابویوسف مبارک قادیانی سے آپ کی گفتگو ہے۔ قادیانی امام کو چاروں شانے چت کیاگیا ہے۔ پڑھیں گے جھوم اٹھیںگے۔
۲… الخبر الصحیح عن قبر المسیح: ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ کہ مسیح علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ یہ ایسا دعویٰ بدیہہ البطلان ہے کہ تینوں سماوی مذاہب کے پیروکاروں میں سے ایک شخص بھی اس کا قائل نہیں۔ مولانا مرحوم نے قرآن وسنت اور حالات ومشاہدات سے اس دعویٰ کو باطل قرار دیا ہے۔ مختصر مگر جامع، بقامت کہتر وبقیمت بہتر، کا مصداق ہے۔