خلافت کے زمانے میں ایک دن خیال آیا کہ اے عمر! تو مسلمانوں کا خلیفہ ہے۔ یہ محض وسوسہ تھا، تکبر نہیں تھا، صرف خیال آگیا تھا۔ فوراً ایک مشک اُٹھائی پانی بھر کر کندھے پر لادا اور ایک غریب مسلمان کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ دروازہ کھول دو، پردہ کرالو عمر پانی بھرنے آیا ہے۔ یہ کون ہیں؟ خلیفۂ راشد ہیں،امیرالمؤمنین ہیں،سلطنت ہاتھ میں ہے، انہوں نے یہ کام کیوں کیا؟ نفس کو مٹانے کے لیے۔ بزرگوں نے اپنے نفس کو اس طرح سے مٹایا ہے۔
غصہ کے بارے میں یہ واقعات اس لیے سنارہا ہوں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے مقبول بندوں کی نشانی یہی ہے کہ اگر خطا ہوجاتی ہے تو فوراً معافی مانگتے ہیں، استغفار و توبہ میں دیر نہیں کرتے کیوں کہ جب کافروں کو بھی استغفار مفید ہے تو مسلمانوں کو کیوں نہ ہوگا۔ کافر لوگ طواف کی حالت میں کہتے تھے غُفْرَانَکَ اے خدا! ہم کو بخش دے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت کافروں کے لیے نازل فرمائی:
وَ مَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ
اے نبی! جب تک آپ ان کافروں میں زندہ ہیں اس وقت تک میں ان پر عذاب نازل نہیں کروں گا۔ اور دوسری آیت ہے:
وَ مَا کَانَ اللہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ33؎
اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے۔ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’بیان القرآن‘‘ میں اس کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ نے کافروں کو جو بشارت دی ہے وہ دنیا کے لیے ہے کہ اگر کافر بھی استغفار کرتا رہے تو دنیا میں اس پر عذاب نہیں ہوگا، لیکن آخرت کے عذاب سے نہیں بچ سکے گا بوجہ ایمان نہ لانے کے۔
محدثِ عظیم ملّاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ
اِذَا کَانَ الْاِسْتِغْفَارُ یَنْفَعُ الْکُفَّارَ فَکَیْفَ لَایُفِیْدُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْاَبْرَارَ34 ؎
_____________________________________________
33؎ الانفال:33
34؎ مرقاۃ المفاتیح:123/5، باب الاستغفاروالتوبۃ،المکتبۃ الامدادیۃ، ملتان