Deobandi Books

علاج الغضب

ہم نوٹ :

22 - 50
نازل فرمارہے ہیں کہ ان سے بھلائی کے ساتھ پیش آؤ۔ یہاں ہمارا کیا معاملہ ہے اور کیا ہونا چاہیے، ہر شخص اپنی حالت پر غور کرلے۔
لہٰذا اس شخص نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے معاملہ کرلیا اور بیوی کو معاف کردیا اور اس کو کچھ نہیں کہا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب اس کا انتقال ہوگیا تو ایک بزرگ نے اس کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ تمہارے ساتھ اللہ نے کیا معاملہ کیا؟ اس نے کہا کہ میاں معاملہ تو بڑا خطرناک تھا، بڑے گناہوں کا معاملہ پیش ہوگیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری ایک بندی نے جس دن سالن میں نمک تیز کردیا تھا اور تم نے میری اس بندی کی خطا معاف کردی تھی، جاؤ! اس کے صلہ میں آج تم کو معاف کرتا ہوں۔
بس غصہ کو پی جانا ایک بہت بڑا مجاہدہ ہے کیوں کہ غصہ آگ ہے اس کو  روکنے میں سخت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے  اس پر اَجر بھی عظیم ہے، اور مجاہدہ کے بقدر مشاہدہ ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو اس مجاہدہ کی بدولت بڑی کرامت حاصل ہوگئی اور اولیاء کی کرامت برحق ہے۔کَرَامَاتُ الْاَوْلِیَاءِ حَقٌّ اسلامی عقائد میں سے ہے۔ اس لیے کرامت اولیاء کا انکار بڑی گمراہی کی بات ہے۔ البتہ کرامت کسی ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی کہ جب وہ چاہے خود صادر کردے بلکہ جب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں اپنے کسی مقبول بندے کو عطا فرمادیتے ہیں۔ کرامت فعل عبد نہیں ہے فعل معبود ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بابِ کفالت کے اندر اولیاء اللہ کی کرامت کی حدیث لائے ہیں اور اولیاء اللہ کی کرامت کو بیان کرنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ولی کی کرامت کو بیان فرمارہے ہیں، پیغمبر ایک اُمتی کی کرامت کو بیان فرمارہے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو اللہ تعالیٰ کے مقبول اور ولی تھے ایک ضرورت پیش آئی۔ انہوں نے ایک شخص سے ایک ہزار دینار قرضہ مانگا، قرض دینے والے نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ انہوں نے کہا  کَفٰی بِاللہِ شَہِیْدًا اللہ تعالیٰ باعتبار شاہد کے کافی ہیں یعنی شاہد کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات کافی ہے۔پھر اس نے کہا کہ کوئی کفیل اور ذمہ دار لاؤ کہ اگر تم نہ دو تو ہم کس سے وصول کریں؟ تب انہوں نے جواب دیا کَفٰی بِاللہِ وَکِیْلًا اللہ تعالیٰ ہی ہمارا وکیل اور کارساز ہے، وہی ہمارا کفیل ہے۔ یہ دو مضمون سن کر اس نے
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 پیش لفظ 5 1
3 علاج الغضب 6 1
Flag Counter