اولاد کی اصلاح و تربیت
الحمد للّٰہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونومن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا‘ من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ‘ واشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان سیدنا ونبینا ومولانا محمدا عبدہ ورسولہ‘ صلی اللہ علیہ و سلم واصحابہ وبارک وسلم تسلیماً کثیراً کثیراً۔ اما بعد!
{وَاَعُوْذُ بْاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجْیْمْ٭ بْسْمْ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ٭ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلاَئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لاَ یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ وَمَا یُؤْمَرُوْنَ} [سورۃ التحریم:۶]
امنت باللّٰہ صدق اللّٰہ مولانا العظیم۔ وصدق رسول النبی الکریم٭ ونحن علی ذلک من الشاھدین والشاکرین٭ والحمدللّٰہ رب العالمین
علامہ نووی رحمہ اللہ نے آگے اس کتاب ’’ریاض الصالحین‘‘ میں ایک نیا باب قائم فرمایا ہے‘ جس کے ذریعہ یہ بیان کرنا مقصو د ہے کہ انسان کے ذمے صرف خود اپنی اصلاح ہی واجب نہیں ہے‘ بلکہ اپنے گھر والوں‘ اپنے بیوی بچوں اور اپنے ماتحت جتنے بھی افراد ہیں‘ ان کی اصلاح کرنا ان کو دین کی طرف لانے کی کوشش کرنا‘ ان کو فرائض و واجبات کی ادائیگی کی تاکید کرنا اور گناہوں سے اجتناب کی تاکید کرنا بھی انسان کے ذمے فرض ہے اس مقصد کے تحت یہ باب قائم فرمایا ہے اور اس میں کچھ آیات قرآنی اور کچھ احادیث نبوی نقل کی ہیں۔
خطاب کا پیارا عنوان
یہ آیت جو ابھی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی‘ یہ در حقیقت اس باب کا بنیادی عنوان ہے‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
{یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا}
یعنی اے ایمان والو۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے خطاب کرنے کے لئے جگہ جگہ ’’{یا ایھا الذین آمنوا‘‘کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں‘ ہمارے حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب قدس اللہ سرہ فرمایاکرتے تھے کہ یہ {یٰٓاَ اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا} کا عنوان جو اللہ تعالیٰ سے خطاب کرتے ہوئے استعمال فرماتے ہیں۔ یہ بڑا پیارا عنوان ہے‘ یعنی اے ایمان والو‘ اے وہ لوگو جو ایمان لائے‘ اس خطاب میں بڑا پیار ہے‘ اس لئے کہ خطاب کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مخاطب کا نام لے کر خطاب کیا جائے‘ اے فلاں اور خطاب کا دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کو اس رشتے کا حوالہ دے کر خطاب کیا جائے جو خطاب کرنے والے کا اس سے قائم ہے‘ مثلاً ایک باپ اپنے بیٹے کو بلائے تو اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اس بیٹے کا نام لے کر پکارے کہ اے فلاں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کو ’’بیٹا‘‘ کہہ کر پکارے کہ اے بیٹے‘ ظاہر ہے کہ بیٹا کہہ کر پکارنے میں جو پیار‘ جو شفقت اور جو محبت ہے اور سننے کے لیے اس میں جو لطف ہے وہ پیار اور لطف نام لے کر پکارنے میں نہیں ہے۔
لفظ ’’بیٹا‘‘ ایک شفقت بھرا خطاب
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی قدس اللہ سرہ‘ اتنے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ ہم نے تو ان کو اس وقت دیکھا تھا جب پاکستان میں تو کیا‘ساری دنیا میں علم