وفضل کے اعتبار سے ان کا ثانی نہیں تھا۔ ساری دنیا میں ان کے علم و فضل کا لوہا مانا جاتا تھا‘ کوئی ان کو ’’شیخ الاسلام‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا‘ کوئی ان کو ’’علامہ‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا‘ بڑے تعظیمی القاب ان کے لئے استعمال کئے جاتے تھے‘ کبھی کبھی وہ ہمارے گھر تشریف لاتے تھے‘ اس وقت ہماری دادی بقید حیات تھیں‘ ہماری دادی صاحبہ رشتے میں حضرت علامہ کی ممانی لگتی تھیں‘ اس لئے وہ ان کو ’’بیٹا‘‘ کہہ کر پکارتی تھیں اور ان کو دعا دیتی تھیں کہ ’’بیٹا! جیتے رہو‘‘ جب ہم ان کے منہ سے یہ الفاظ اتنے بڑے علامہ کے لئے سنتے‘ جنہیں دنیا ’’شیخ الاسلام‘‘ کے لقب سے پکار رہی تھی تو اس وقت ہمیں بڑا اچھنبا محسوس ہوتا تھا‘ لیکن علامہ عثمانی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت مفتی صاحب (مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ) کے گھر میں دو مقصد سے آتا ہوں۔
ایک یہ کہ حضرت مفتی صاحب سے ملاقات‘ دوسرے یہ ہے کہ اس وقت روئے زمین پر مجھے ’’بیٹا‘‘ کہنے والا سوائے ان خاتون کے کوئی اور نہیں ہے‘ صرف یہ خاتون مجھے بیٹا کہہ کر پکارتی ہیں‘ اس لئے میں بیٹا کا لفظ سننے کے لئے آتا ہوں‘ اس کے سننے میں جو لطف اور پیار محسوس ہوتا ہے وہ مجھے کوئی اورلقب سننے میں محسوس نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس کی قدر اس شخص کو ہوتی ہے جو اس کہنے والے کے جذبے سے آشنا ہو‘ وہ اس کو جانتا ہے کہ مجھے یہ جو ’’بیٹا‘‘ کہہ کر پکارا جارہا ہے ‘ یہ کتنی بڑی نعمت ہے‘ ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان یہ لفظ سننے کو ترس جاتا ہے۔
چنانچہ حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب قدس سرہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالی نے ’’یاایھا الذین آمنوا‘‘ کا خطاب کر کے اس رشتے کا حوالہ دیتے ہیں۔ جو ہر صاحب ایمان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے‘ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو ’’بیٹا‘‘ کہہ کر پکارے‘ اور اس لفظ کو استعمال کرنے کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ آگے جو بات باپ کہہ رہا ہے وہ شفقت‘ محبت اور خیر خواہی سے بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی قرآن کریم میں جگہ جگہ ان الفاظ سے مسلمانوں کو خطاب فرمارہے ہیں۔ انہی جگہوں میں سے ایک جگہ یہ ہے۔ چنانچہ فرمایا:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ آٰمَنُوْا قَوْآ اَنْفَسُکْم وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَقُوْدَھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلَائِکَۃ غِلَاظ شِدَاد لاَ یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ}
’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بھی آگ سے بچاؤ‘ وہ آگ کیسی ہے ؟ آگے اس آگ کی صفت بیان فرمائی کہ اس آگ کا ایندھن لکڑیاں اور کوئلے نہیں ہے‘ بلکہ اس آگ کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘ اور اس آگ کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بڑے غلیظ اور تند خو ہیں سخت مزاج ہیں‘ اور اللہ تعالیٰ ان کو جس بات کا حکم دیتے ہیں وہ اس حکم کی کبھی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘
ذاتی عمل نجات کے لئے کافی نہیں
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ بات صرف یہاں تک ختم نہیں ہوتی کہ بس اپنے آپ کو آگ سے بچا کر بیٹھ جاؤ‘ اس سے مطمئن ہو جاؤ کہ بس میرا کام ختم ہوگیا‘ بلکہ