عمر بھر کی ریاضت کا لہو لگتا ہے
اور زندگی کا طویل ترین دورانیہ اس کی نظر کرنا پڑتا ہے اور صبر و تحمل اور پیہم جد و جہد سے کام لینا پڑتا ہے تب کہیں جا کے اولاد پارس بنتی ہے اور والدین کے بڑھاپے کا سہارا اور ان کے کاموں میں معین اور نیک کارناموں کی جانشین بنتی ہے۔
ان بیانات، مذاکروں اور مکالموں سے والدین اور خود راقم الحروف کو اندازہ ہوا کہ اگر یہ ایک خاص تربیت کے ساتھ کتابی شکل میں آ جائیں تو یہ ان والدین کے لیے راہنما اصول ثابت ہوں جو تربیت اولاد کے خواہش مند تو ہیں مگر اس کے طریقوں، اصولوں اور حکمتوں سے نا واقف ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ اختراعی نکات نہ تھے بلکہ اکابر و اسلاف کے ملفوظات و بیانات تھے جن سے میں نے اپنی فکر کو منور کیا اور یہی موتیوں کی مالا والدین کی خدمت میں بھی پیش کی جس نے ان کے دلوں میں تربیت اولاد کی اہمیت بٹھائی اور اس کے مختلف طریقے واضح کیے اور بے مثال نمونے پیش کیے۔ چنانچہ زیر نظر مجموعہ کا بیشتر حصہ بھی علماء کرام کے بیانات و تقاریر پر مشتمل ہے جو انہوں نے مختلف مواقع پر کیں ان تقریروں کا (جو اکثر زبان دل سے کی گئیں اور امید ہے کہ گوش دل سے سنی گئی ہونگی) مرکزی خیال اور بنیادی موضوع ایک ہی تھا اور وہ یہ کہ ایک ماں اور باپ کو اپنی اولاد کی تربیت کیسے کرنی ہے؟ اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس نعمت کی کس طرح قدر دانی کرنی ہے؟ اور اس امانت کا کس طرح حق ادا کرنا ہے؟ اور اولاد میں اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ جوہر کمال کو کس طرح ترقی دینا ہے؟ اور کس طرح اس کو چمکا کر علمی، روحانی، دینی اور دنیاوی مراتب کے حصول کے قابل بنانا ہے؟ حضرات علماء کرام اور اکابرین عظام نے یہ تقریریں جس در دو سوز سے کیں اور اپنے طویل علم و مطالعہ اور تجربہ کا نچوڑ جس فکر مندی اور دل سوزی سے کیا ہے وہ ان کی تقاریر کی سطر سطر سے نمایاں ہے۔
ہے رگِ ساز میں صاحبِ ساز کا لہو
ایک ایسے وقت میں جب اولاد کا بگاڑ اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے اور نا فرمانی کا عفریت بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ضروری تھا کہ تربیت اولاد کے حوالے سے علماء کرام کے زندگی بھر کے تجربات کا نچوڑ اپنی ملت کے سامنے رکھا جاتا تاکہ جن نتائج تک وہ طویل علمی رہ نوردی، عملی تجربے اور تحقیق و جستجو کے بعد پہنچے تھے اس کا ما حصول اور خلاصہ لوگوں کے سامنے آ جاتا۔ اسی مقصد کے حصول کی خاطر یہ کتاب تیار کی گئی ہے اور اس کی ترتیب کچھ یوں رکھی گئی ہے کہ اس کا اکثر و بیشتر حصہ تقاریر و بیانات پر مشتمل ہے (جن کے مطالعے کے وقت یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ان کا اسلوب تحریری نہیں بلکہ خطابی ہے) جبکہ دوسرے حصے میں تربیت اولاد کے حوالے سے لکھی گئی مختلف کتب سے اقتباسات پیش کیے ہیں اور تیسرے حصے کو اس حوالے سے مختلف رسائل و جرائد میں چھپنے والے اصلاحی مضامین سے سجایا گیا ہے یوں یہ کتاب مختلف پھولوں کا ایک خوبصورت گلدستہ بن گئی ہے جس کو آپ پائیں گے تربیت اولاد کے معانی و مطالب، اولاد کی پرورش کی اہمیت و ضرورت، اولاد کے حقوق کا تذکرہ، بچوں کی تربیت کے مختلف طریقے اور سنہرے اصول، اسلام میں بیٹی کا مقام و مرتبہ، بچوں کی تربیت