اس مقصد کے حصول کے لیے والدین ہمیشہ اپنی زندگی ایک باغبان بن کر گزار دیتے ہیں … اور پھر بہترین تربیت کی بناء پر تیار ہونے والی اولاد … والدین کے لیے زندگی کی تیز دھوپ میں سایہ ثابت ہوتی ہے … اور ان کو راحت و آرام پہنچا کر خود راحت محسوس کرتی ہے۔
یہ کتاب بھی اسی مقصد کے لیے ترتیب دی گئی ہے کہ والدین نے اپنی اولاد کے متعلق وہ کون سا طریقۂ تربیت اختیار کرنا ہے کہ جس کے نتیجے میں وہ معاشرے اور ملت کو بہترین، ہونہار اور صالح نسل سونپ سکیں اس لیے کہ مستقبل قریب میں انہوں نے ہی ملک کی باگ ڈور … سنبھالنی اور ملت اسلامیہ کی قیادت کرنی ہے…
راقم الحروف کو جب مختلف تعلیمی اداروں میں بچوں اور ان کے والدین سے متعدد بار گزارشات کا موقعہ ملا اور والدین سے براہ راست مذاکرہ و مکالمہ ہوا تو اندازہ ہوا کہ بہت سے والدین کی سرے سے تربیت اولاد کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں والدین اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور اولاد گلی کوچوں میں بھٹکتی پھرتی ہے … اور غلط صحبت اور آزاد ماحول میں پروان چڑھنے والی یہ اولاد جب زمانہ کے حوادثات اور تجربات کے تھپیڑے کھا کھا کر جب کسی قابل بنتی ہے تب موت کی دہلیز تک ان کا قدم آن پہنچتا ہے … اور ان کے تجربات خود ان کے کسی کام نہیں آتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے والدین نے ان کا بیڑہ غرق کیا تھا اور صحیح نہج پر ان کی تربیت نہیں کی تھی ان کو پتہ ہی نہیں کہ تربیت کیا چیز ہے؟ اور کیسے ہوتی ہے؟ اور وہ اپنے بچوں کو کیا سمجھائیں اور کیا سکھائیں اولاد کی کشتی کی یہ نا اہل ناخدا
خود تو ڈوبے ہیں صنم
تجھے بھی لے ڈوبیں گے
کا مصداق بن کر دنیا میں بھی اس فرض منصبی سے غفلت کا صلہ پاتے ہیں اور آخرت میں بھی ان سے پوچھ گچھ ہو گی اور اس ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا نہ کرنے کی وجہ سے دُھرے عذاب میں مبتلا ہونگے۔
اس غفلت میں ان لوگوں کا بھی بڑا حصہ ہے جو خود تو نمازی ہیں اور کچھ آداب و اخلاق سے واقف ہیں لیکن ملازمت یا تجارت میں خود کو ایسا پھنسا بیٹھے ہیں کہ بچوں کی طرف توجہ کرنے کے لیے گویا ان کے پاس کوئی وقت ہی نہیں … حالانکہ زیادہ کمانے کی ضرورت اولاد ہی کے لیے ہوتی ہے جب زیادہ کمانے کی وجہ سے خود اولاد ہی کے اعمال و اخلاق کا خون ہو تو ایسا کمانا کس کام کا؟
اور بعض والدین اولاد کی تعلیم و تربیت کا احساس تو رکھتے ہیں لیکن اسے معمولی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ غیر معمولی اہمیت کا مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کی طرف والدین کی کم التفاقی نا قابل تلافی نقصان کا ذریعہ بن رہی ہے اور یہ نقصان دین کا بھی ہے اور دنیا کا بھی اور ایک ذرا سی توجہ سے انقلابی تبدیلی انشاء اللہ یقینی ہے … یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کتنے والدین ہیں جن کو دن رات بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کی فکر تو دامن گیر رہتی ہے اور وہ اس کے لیے ہر طرح کی قربانیاں بھی دیتے ہیں لیکن بجز چند کے اکثر کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے کیوں؟ اس لیے کہ وہ اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت کے متمنی تو ہیں لیکن اس نازک کام کے طریقوں سے نا واقف ہیں اور مستقل مزاجی اور تسلسل سے کام نہیں لیتے جبکہ اس کام کے لیے تو