افلاس کے ڈر سے یا چند ٹکوں کی خاطر انہیں بگاڑ کے راستے پر لگا دیتے ہیں تو وہ ایک بہت بڑی امانت میں بہت بڑی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں؟ بہرحال اولاد کی یہ نعمت اور امانت اللہ تعالیٰ نے والدین کو عطا کی ہے کیا کوئی ہے جو اس کی اچھے انداز سے تربیت کر کے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر اور امانت کا حق ادا کر سکے؟ کوئی ہے…؟ کوئی ہے …؟ کوئی ہے …؟؟؟
محمد ریاض جمیل
۲۴ اگست ۲۰۰۵ء لاہور
---
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پہلی بات
اولاد خواہ لڑکا ہو یا لڑکی اللہ کی عظیم نعمت ہے … تمناؤں اور آرزؤں کا مرکز ہے … آنکھوں کا نور، دلوں کا سرور اور مستقبل کی کرن ہے … زندگی کا ما حصل، خوش بختی کا نشان اور سر فرازی کی علامت ہے … کھلتا ہوا پھول، چمکتا ہوا تارہ اور نکھرتا ہوا چودھویں کا چاند ہے … بے قراری میں قرار، بے چینی میں چین، پریشانی میں سکون اور رنج و الم میں شاد مانی ہے … ماں باپ کی زندگی، بھائی بہنوں کا پیار، گھر کی رونق، محلے کی زینت اور بستی کی شان ہے … معصومیت کا پیکر، بے گناہی کا نمونہ اور سادگی کا مجسمہ ہے … جس کے آرام کے لیے ہم تھکتے ہیں، جس کی نیند کے لیے ہم جاگتے ہیں، اور جس کی تندرستی کے لیے ہم بیمار پڑتے ہیں … جس کے لیے نبیوں اور بزرگوں نے تمنائیں کیں اور دعائیں مانگیں … جو جنت کا پھول اور روئے زمین کا قیمتی سرمایہ ہے … جو گھر کی رونق، خیر و برکت اور دین و دنیا کی بھلائی کا سامان ہے … جو دل کی بہار، نفس کی مسرت اور روح کی خواہش ہے … جی ہاں یہ اولاد اگر نیک ہے تو دین و دنیا کے کاموں میں والدین کی معین اور مرنے کے بعد ان کی جانشین ہے۔
یہ بچے والدین کے گلشن حیات کے لہلہاتے مسکراتے گنگناتے اور چہچہاتے شاداب غنچے ہیں ان کی آبیاری اور ہمہ وقت آباد کاری ان کی نگہبانی اور باغبانی کرنا ہمارا فرض ہے بالکل ایسے کہ جیسے ایک باغبان باغ کے پیڑوں اور پودوں کی باغبانی اور رکھوالی کرتا ہے وقت پر ان کی پنیری لگاتا ہے … زمین کو نمو کے قابل بناتا ہے … ان کی تراش خراش کرتا ہے … ان کی نزاکت، خوبصورتی، رعنائی و زیبائی اور دلربائی کو بچانے کے لیے ہر جتن کرتا ہے بالکل ایسے ہی … بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہمیں اپنے چمن کے پھولوں اور کلیوں یعنی اپنے بچوں کی بہترین پرورش کرنی ہے … تا کہ وہ عالم شباب میں پہنچ کر ہمارے لیے اور خود اپنے لیے نیک نامی لوگوں کے لیے راحت رسانی اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا باعث بن سکیں۔