کے ٹھوکر کھا جانے کے بڑے امکانات ہیں کبھی مایوسیوں کی دیواریں سد رہ بنتی ہیں تو کبھی اپنی محنت کے مسلسل رائیگاں جانے کا غم کھانے لگتا ہے ایسے میں اللہ کی مدد مانگنی چاہیے جس کے فضل سے تربیت کا یہ بار گراں ہلکا بھی محسوس ہو گا اور آسان بھی اور منزل مقصود کا حصول جلدی بھی ہو گا اور سہولت سے بھی انبیاء و اولیاء نے جہاں حصول اولاد کے لیے بار گاہ خداوندی سے التجائیں کیں اور اس نعمت عظمیٰ کے مل جانے کے بھی علم نبوی اور بصیرت پیغمبری اور وحی کی رہبری میں تربیت اولاد میں بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی مگر اس سب کے باوجود رب ذوالجلال سے ہر آن تربیت اولاد کے لیے دعائیں مانگتے رہے پھر کیا ہوتا تھا
آہ جاتی تھی آسماں پہ رحم لانے کے لیے
بادل ہٹ جاتے تھے راہ دے دیتے تھے جانے کے لیے
دنیا کے معمولی معمولی معاملات میں جب لوگ اپنے ارمانوں کا خون ہوتا اور امیدوں کے محلات کو زمین بوس ہوتا دیکھتے ہیں اور آرزؤں کے گھروندوں کو ٹوٹتا دیکھتے ہیں تو ان محرومِ تمنا لوگوں کی بھی نگاہیں بے اختیار آسمان کی طرف اور ہاتھ بار گاہ خداوندی میں اٹھ جاتے ہیں
وہ محروم تمنا کیوں نہ سوئے آسماں دیکھے
جو قدم بقدم اپنی محنت رائگاں دیکھے
جب اس طرح کے دنیاوی اور غیر معمولی معاملات میں لوگ اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور وہ ان کی پکار سنتا بھی ہے اور ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر بھی کرتا ہے تو کیا ان لوگوں کے ہاتھوں کو اللہ خالی لوٹا دیں گے۔
اپنے نخل آرز کے ثمر آور ہونے کی دعائیں مانگتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ ان جھولیوں میں کچھ نہ ڈالے گا جو اپنی اولاد کے لیے آخرت کے سوالی، جنت کے طالب، رضائے مولا کے چاہنے والے ہیں؟ نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں یہ اس کریم ذات کی غیرت کے خلاف ہے کوئی اپنی اولاد کے لیے مانگے تو سہی وہ تو کہہ رہے ہیں
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے کوئی راہ روِ منزل ہی نہیں
امانت میں خیانت نہ کریں
والدین کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ اولاد ان کی اپنی ملکیت نہیں، نہ ہی وہ اسے اپنی مرضی سے حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے اپنی مرضی سے زندہ رکھ سکتے ہیں، دینا نہ دینا بھی اللہ کی مرضی پر منحصر ہے اور مختصر یا لمبی زندگی دینے کا دار ومدار بھی اسی کی مشیت پر ہے، کوئی بچپن میں فوت ہو جاتا ہے تو کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں کسی نے خوب کہا ہے
باغ دنیا میں مرجھاتے ہیں یہ پھول
کچھ کھلے کچھ آدھ کچھ بن کھلے
یہ اولاد والدین کے پاس اللہ کی ایک خوبصورت اور قیمتی امانت ہے اس میں خیانت نہ کیجئے بلکہ اس کا حق ادا کیجئے، جو والدین اولاد کی صحیح نہج پر تربیت کرتے ہیں اور ان کی دینی تعلیم اور حسن اخلاق کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں، وہ امانت کا حق ادا کرتے ہیں اور جو والدین اس بارے میں تساہل اور تغافل سے کام لیتے ہیں اور