والدین کوشش کریں کہ بچے کے دل میں ایک ایسی شمع روشن ہو جو بدی کی تاریکیوں کو چھانٹ دے، اور اس کو ایک نیا روپ عطا کرے جس کی وجہ سے وہ خود اپنا نگران بن جائے، اور کسی بیرونی دباؤ کے بغیر اپنا محاسبہ کرنے لگے، اور اعلیٰ مقاصد کے لیے اپنی زندگی وقف کر دے، نیکیوں سے محبت اور انہیں پھیلانے کا جذبہ اور برائیوں سے نفرت اور انہیں روکنے کا داعیہ اس میں پیدا ہو، دن کا شہسوار اور رات کا تہجد گزار ہو، اور وہ قصر سلطانی کو اپنا گنبد بنانے کی بجائے پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرے کر لینے کا عادی ہو، وہ حلقۂ یاراں میں ابریشم کی طرح نرم اور رزم حق و باطل میں فولاد ثابت ہو، اور اس کے دل و دماغ کے ہر گوشہ و نہان خانہ میں ہر گھڑی ہر آن یہ خیال سمایا ہوا ہو کہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
اور اس کے دل میں وہ جذبہ پیدا ہوا کہ وقت آنے پر وہ کجکلاہوں سے ٹکرا جائے اور آتش نمرود میں کود جائے مگر اپنے ایمان کا سودا نہ کرے، وہ سر فروش اور بت شکن تو بنے مگر ایمان فروش اور بت فروش نہ بنے، جو زر، زن زمین کی بجائے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا دم بھرنے والا ہو وہ بیک وقت صابر و شاکر عابد و زاہد مبلغ و مجاہد کی صفات سے متصف ہو باطل کی باد سموم اس کے ایمان میں کوئی لرزش پیدا نہ کر سکے، وہ ابن الوقت لوگوں میں اپنا شمار کرانے کی بجائے ابو الوقت کہلانا پسند کرے، وہ حالات کے دھاروں کے مطابق بہنے کی بجائے حالات کا رخ بدلنے والا ہو اور اس کا یہ عقیدہ و مذہب ہو کہ
حالات کے قدموں میں قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی ستارہ تو زمیں پر نہیں گرتا
بڑے شوق سے گرتا ہے دریا سمندر میں
کبھی سمندر دریا میں نہیں گرتا
اور وہ ملک و ملت اور قوم اور امت کا نام روشن کرنے والا ہو، وہ قوم رسول ہاشمی کو ٹکڑیوں میں بانٹنے کی بجائے ان کو امت وحدہ بنانے کا ذریعہ ثابت ہو اور دنیا بھر کے کسی بھی مسلمان کے پاؤں تلے چبنے والے کانٹے کا درد محسوس کرنے والا ہو، علماء مشائخ کا قدر دان اور والدین کا فرمانبردار اور اطاعت شعار ہو اور جو شعائر دین پر قطعاً کمپر و مائز کرنے کو تیار نہ ہو، سکوں کی جھنکار اور دولت کے انبار جس کے پائے ایمان میں لرزش نہ پیدا کر سکیں، جسے لوگوں کا بھڑکانا غصہ دلانا جادئہ اعتدال سے برگشتہ نہ کر سکے۔ جو اس شعر کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لے
میری زندگی کا مقصد تیری دین کی سر فرازی
میں اسی لیے مجاہد میں اسی لیے نمازی
اولاد کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مانگنا
اولاد کی تربیت چونکہ کوئی آسان کام نہیں قدم قدم سنبھال سنبھال کے اٹھانا پڑتا اور بول بول تول کر نکالنا پڑتا ہے اور خدا کی عطا کردہ تمام تر صلاحیتوں کو بڑی حکمتوں سے بروئے کار لانا پڑتا ہے پھر بھی انسانی فہم و بصیرت اور علم و ادراک