بچہ بڑا ہو کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔‘‘ بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’جسے والدین ادب نہ سکھائیں اسے زمانہ ادب سکھا دیتا ہے۔‘‘ بچپن میں ادب سکھانے کا فائدہ ہے جب عمر بڑی ہو جائے پھر ادب سکھانے کا کچھ فائدہ نہیں، گیلی لکڑی جب سیدھی کی جائے تو سیدھی ہو جاتی ہے لیکن خشک لکڑی سیدھا کرنے سے ٹوٹ تو سکتی ہے سیدھی نہیں ہو سکتی۔‘‘
تربیت کرنے کے فائدے اور نہ کرنے کے نقصانات
بنولے پر محنت کی جاتی ہے تو شاہانہ لباس بن جاتا ہے، موتی پروئے جاتے ہیں تو حسینوں کے گلے کی مالا تیار ہو جاتی ہے۔ بچوں کی نگہداشت کی جائے تو وہ پھول بن کر گلشن حیات کو معطر کر دیتے ہیں بچوں پر محنت کی جائے تو وہ محدث، مجاہد، عابد، زاہد، صابر، شاکر، مبلغ اسلام اور زمانے کے امام بن جاتے ہیں اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ چنگاری کو نہ بجھایا جائے تو وہ شعلہ بن کر خرمن کو بھسم کر دیتی ہے، خود رو جھاڑیوں کو نہ کاٹا جائے تو جھاڑ جھنکار کا ایک خوفناک جنگل تیار ہو جاتا ہے، دریا سے رسنے والے پانی کو بند نہ کیا جائے تو وہ سیلاب بن جاتا ہے، سوسائٹی میں پائی جانے والی غلاظتوں کا سد باب نہ کیا جائے تو وہ عذاب خدا بن جاتا ہے اور بچوں کی تربیت نہ کی جائے تو وہ ڈاکو، لٹیرے، ہیرونچی، چرسی، بد دیانت، دغا باز، وعدہ خلاف، چغل خور، قاتل اور غارت گر بن جاتے ہیں۔
بچوں کی تربیت کیسے اور کب تک کی جائے
اب سوال یہ ہے کہ آخر بچوں کی تربیت کب سے؟ کیسے اور کب تک کی جائے اس گتھی کو حضرت علی t نے یوں سلجھایا ہے کہ ’’ولادت سے سات برس تک اسے تعلیم دو ادب سکھاؤ، پھر سات برس کی عمر سے چودہ سال کی عمر تک اس کے ساتھ دوستی کرو، پھر چودہ سے اکیس سال تک کی عمر میں پہنچنے پر اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔‘‘ یعنی اولاد جب تک نا بالغ ہو اسے جبراً درست کرنے کی کوشش میں لگے رہنا فرض ہے لیکن اولاد بالغ ہو اس پر اور اولاد کی اولاد اور اولاد کی بیویوں پر شریعت نے جبر کا اختیار نہیں دیا یعنی ان کے غلط کاموں پر اظہار ناراضگی کرتا رہے سمجھاتا رہے اور باقی تفویض سے کام لے یعنی معاملہ اللہ پر چھوڑ دے شیخ عبد الوھاب شعرانیؒ کا بیٹا پڑھتا نہیں تھا دوسرے ہزاروں طلبہ آئے پڑھ کر علامہ بن گئے مگر یہ صاحبزادہ صاحب پڑھنے کو بالکل تیار نہ ہوتے بسیار کوشش کے باوجود جب وہ کسی طور پڑھنے پر آمادہ نہ ہوا تو ایک دفعہ اللہ کی طرف سے دل میں وارد ہوا کہ تفویض سے کام لو تو انہوں نے دعا کی: ’’یا اللہ! میں کیا اور میری محنت کیا بس تیرے ہی سپرد ہے۔‘‘ ایک صبح دیکھا سب سے پہلے کتاب اٹھا کر لانے والا یہی صاحبزادہ تھا، لیکن تفویض کا یہ مطلب نہیں کہ محنت چھوڑ دی جائے اسباب اور محنت کو چھوڑنا جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اسباب اور محنت سے نظر ہٹا کر اللہ تعالیٰ پر نظر قائم کرنا ہمارے اختیار میں محنت تھی سو وہ ہم نے کر لی اب معاملہ اللہ کے سپرد
سپردم باتو مایئہ خویش را
تو می دانی حساب کم و بیش را
بچوں کی تربیت کن خطوط پر کی جائے؟