بچپن کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام پیدا ہوتے ہی بچے کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیتا ہے اس کے ایک کان میں اذان اور دوسرے میں تکبیر اسی کا اعلان ہے نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا بھی ارشاد گرامی ہے ’’ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘ ادھر اسلام کا دامن بچوں کے لیے وسائل سے بھرا ہوا ہے اسلام بچوں کی تربیت مواعظ حسنہ اور اخلاق فاضلہ سے کرتا ہے، اور ان کی عقلی و ذہنی صلاحیتوں کی اصلاح اسوئہ صالحہ، مفید واقعات اور اعلیٰ کردار کے ذریعے کرتا ہے اور ان کی جسمانی تربیت اچھی عادات اور کبھی با مقصد سزا کے ذریعہ کرتا ہے۔
بچپن سے بچپن تک
واضح رہے کہ بچہ بچپن ہی سے بہت سارے آداب سیکھتا ہے اور انہی آداب و معارف پر زندگی کے آخری لمحات تک کار بند رہتا ہے اس لیے تربیت کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس عظیم وقت سے ہر گز غافل نہ ہو کیونکہ انہیں بچپن کے ایام میں ہی بچے کے اخلاق کی درستگی ہو سکتی ہے۔ امام غزالیؒ بچے کی تربیت کے اس اہم مرحلے کی جانب یوں متوجہ فرماتے ہیں: ’’بچہ والدین کے پاس امانت ہے، اس عادل پاک صاف، سادہ اور ہر قسم کے نقوش سے خالی ہے اور اس قابل ہے کہ اس پر ہر قسم کے نقوش ثبت کیے جا سکیں اسے جس طرف مائل کرنا چاہو وہ مائل ہو سکتا ہے اگر اسے اچھی عادات ڈال دی گئیں اور تعلیم سے مزین کر دیا گیا تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں نیک بخت شمار ہو گا اور اس کے ثواب میں والدین، معلم اور مربی بھی شریک ہونگے اور اگر اسے بری عادات پڑ گئیں اور اسے جانوروں کی طرح کھلا چھوڑ دیا گیا تو وہ بد بخت اور ہلاک ہو گا اور اس کا بوجھ اس کے مربی اور ذمہ دار پر ہو گا۔‘‘
تربیت اولاد کی ضرورت
بچپن کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلاف کا مقولہ ہے کہ ’’جو شخص اپنے بچوں کو ادب سکھا دیتا ہے وہ اپنے دشمن کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے۔‘‘ نیز یہ بھی مقولہ ہے کہ ’’والدین اپنے بچوں کو ادب سے زیادہ افضل کسی بھی چیز کا وارث نہیں بناتے۔‘‘ کیونکہ جب وہ اسے ادب سکھا دیتے ہیں تو بچہ اس ادب کے ذریعے مال، مرتبہ، دین دنیا اور آخرت سب کچھ حاصل کر سکتا ہے اور اگر بچے کو مال کا وارث بنایا تو مال تو ضائع ہو جاتا ہے تو پھر نہ اس کے پاس مال رہے گا نہ ادب و کمال اور وہ کہتا پھرے گا
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہترین آداب سکھائے حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’اپنے بچوں کو ادب سکھاؤ پھر تعلیم دو۔‘‘ حضرت احنف بن قیسؒ فرماتے ہیں: ’’ادب عقل کا نور ہے جیسے آگ اندھیرے میں آنکھ کے لیے نور بن جاتی ہے۔‘‘
ایک مقولہ یہ بھی ہے کہ ’’ادب آباؤ اجداد سے حاصل ہوتا ہے اور نیکی اللہ کی طرف سے۔‘‘ نیز یہ بھی مقولہ ہے کہ ’’جو شخص اپنے بچے کو بچپن میں ادب سکھاتا ہے وہ