تعلیم دی یا نہیں؟ ان کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ قوی کیا یا نہیں؟ انہیں مغرب کے اخلاق باختہ ایمان سوز تہذیب سے نفرت اور محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کی مبارک معاشرت، تہذیب و تمدن اور محبوب زندگی سے محبت کرنا سکھایا کہ نہیں؟ ان میں عبادات کا شوق پیدا کیا کہ نہیں؟ ان کو اللہ کے لیے محبت و نفرت کرنے اور اللہ کے لیے جینے اور مرنے کا درس دیا کہ نہیں؟ ان کے دلوں میں صحیح یقین کے بیج بوئے کہ نہیں؟ در بدر کی جبہ سائی سے ہٹا کر وحدہ لا شریک کی بارگاہ میں جبین نیاز جھکانے کا عادی بنایا کہ نہیں؟ ان کو صبر و تحمل، اکرام و ایثار، اخوت و محبت، سلوک و احسان ایمان و احتساب، اخلاف و للھیت کے روشن کردار اپنانے کا راستہ دکھایا کہ نہیں؟ ان کو فقیر بوذریؓ اور قوت حیدریؓ کا مصداق بنایا کہ نہیں؟ ان کو دنیا کی رعنائیوں سے منہ موڑ کر جنت کی دلربائیوں سے آشنا کیا کہ نہیں؟ لہٰذا قیامت کے دن کسی بھی عذر معذرت کو قبول نہ کرتے ہوئے اولاد کے مستقبل کے کھیلنے والے والدین اور ان کی دینی تربیت نہ کرنے والے والدین سے یہ پوچھا جائے گا
تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزن سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
بچپن کی اہمیت
والدین کو بچپن ہی سے ان کی تربیت پر توجہ مرکوز کرنی ہے کیونکہ بچپن کا زمانہ زمین کی مانند ہوتا ہے جس میں انسان جو اچھے اخلاق اور اعلیٰ صفات یا گندی عادات اور غلط روایات کا بیج کاشت کرتا ہے مستقبل میں اسی کا پھل اسے حاصل ہوتا ہے، اسی زمانہ میں انسانی عقل نشوونما پاتی ہے اسی مرحلے میں احساسات جنم لیتے ہیں، استعداد پیدا ہوتی ہے، میلان طبع کی حدیں مقرر ہوتی ہیں، انسانی زندگی کا یہ مرحلہ خالی کتاب کی مانند ہوتا ہے جس میں انسان اپنے حادثات اور نت نئی پیش آمدہ باتیں لکھتا ہے۔ اس زمانہ میں اگر بچے میں خیر کا بیج بویا گیا تو وہ آگے جا کر ثمرات لاتا ہے تھوڑی سی محنت اور توجہ سے یہ سلسلۂ فیض و نفع آخرت تک جاری رہتا ہے بشرطیکہ والدین پر امید ہو کر اس بیڑے کو اٹھائیں کیونکہ
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی اس کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ہر بچہ اپنے بچپن سے گزرتا ہوا زندگی کے رواں دواں قافلے میں شامل ہوتا ہے اور جوان ہو کر سماج کی مختلف اکائیوں کی شکل میں سامنے آتا ہے کوئی امیر ہوتا ہے تو کوئی غریب، کوئی قاتل ہوتا ہے تو کوئی مقتول، اور کوئی فسادی و فتنہ پرور بن کر ابھرتا ہے تو کوئی ھادی اور مصلح بن کر، کوئی عزتوں کا لٹیرا بن کر سامنے آتا ہے تو کوئی عزتوں کا محافظ، کوئی دوپٹے چھیننے والا بنتا ہے تو کوئی آنچل اوڑھانے والا، کوئی دوسروں کے پیٹ میں پنجے گاڑنے اور منہ سے نوالہ چھیننے والا بنتا ہے تو کوئی غریب پرور بن کر سامنے آتا ہے۔ ہر قوم کے ملک اور مستقبل کا دار و مدار اس کے ایمان دار، ہونہار، خدا ترس عدل گستر اور بندہ پرور بچوں پر ہوتا ہے آج کے بچے کل کے معمار یا تخریب کار ہیں بچوں کو نظر انداز کر کے کوئی قوم کامیاب ہو سکتی ہے نہ کوئی ملک۔
اسلام اور بچپن