قرار دیا ہے اور جس چیز کو ضروری قرار دیا جائے اس میں یہ اختیار نہیں ہوتا کہ چاہے کرے چاہے نہ کرے یہ اختیار نفل و مستحب کام میں ہوتا ہے لیکن جو چیز فرض و واجب ہو اور ضروری و لازم ہو اس میں اختیار نہیں ہوتا۔
اولاد کے گناہوں کا وبال والدین کے سر بھی ہو گا
چونکہ نیک تربیت کا آغاز بچپن ہی سے ہوتا ہے لہٰذا والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچپن ہی سے اپنی اولاد کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام کی طرف متوجہ کریں اگر خدانخواستہ والدین نے ان کی اچھی تربیت نہیں کی اور وہ بڑے ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک مکلف ہونے کے بعد ان سے گناہوں کا صدور شروع ہو گیا تو چونکہ ان گناہوں کے وقوع پذیر ہونے میں والدین کی سستی، غفلت اور کوتاہی کو بھی دخل ہے اس لیے بچے تو گناہ گار ہونگے ہی ان کے ساتھ ساتھ ان کے گناہوں کا وبال والدین کے سر بھی ہو گا،
ہم تو ڈوبے تھے صنم
تمہیں بھی لے ڈوبیں گے
تربیت اولاد کے فوائد
اولاد کی نیک تربیت کے دنیا و آخرت میں بے شمار فوائد ہیں، تربیت یافتہ اولاد والدین کی نیک نامی کا سبب بنتی ہے، ان کے بڑھاپے کا سہارا، دشمنوں سے دفاع کا ذریعہ اور بد خواہوں سے حفاظتی حصار ثابت ہوتی ہے۔
نیک اولاد ہی صحیح معنوں میں آنکھوں کا نور، دلوں کا سرور بنتی ہے، وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو دین خدا کی سر بلندی اور خلق خدا کی خدمت گزاری میں صرف کرتی ہے والدین، اہل قبیلہ، بستی، محلہ، شہر اور ملک کا نام روشن کرنے کا ذریعہ بنتی ہے زندگی کی تیز دھوپ میں سائبان ثابت ہوتی ہے، بلند کردار اور خوش گفتار بن کر اخلاق سے عاری معاشرے کے لیے اعلیٰ اخلاق کی بھینی خوشبو اور بہترین نمونہ ثابت ہوتی ہے۔ ان فوائد میں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے والدین کی اپنی بھی تربیت ہوتی ہے جب والدین اچھی باتیں کہیں گے اور سنیں گے تو ان کا اثر جیسے دوسرے کے قلوب پر ہوتا ہے ایسے ہی خود کہنے والے کے دل پر بھی ہوتا ہے۔ ایسی اولاد اور والدین اسلامی تاریخ کے دامن پر ستاروں کی طرح دمکتے ہیں اور ایک زمانہ ان کی مصنوعی روشنی سے جگمگاتا ہے سینکڑوں اور ہزاروں انسانوں کے لیے ایسی اولاد مینارئہ نور ثابت ہوتی ہے جن کے دم قدم سے وہ منزلوں تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں اور بلا شبہ ہزاروں انسان ان چشموں سے سیراب ہوتے ہیں ایسی اولاد نسل نوح کی کشتی کو ساحل کنارے لگانے اور ان کی نیّا کے ڈوبنے سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے اعلیٰ اخلاق و کردار کی حامل یہ اولاد اقبال مرحوم کے اس شعر کا صحیح مصداق پیش کرتی ہے۔
نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
قیامت کے دن تربیت اولاد کے بارے میں سوال ہو گا
والدین سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا کہ انہوں نے بچوں کو اخلاق حسنہ اور نیک