مر مر کر جینا
لہو آنے کا پینا
کا مصداق بن جاتی ہے۔ اور نافرمان اولاد نہ زندگی میں ماں باپ کا اکرام و احترام کرتی ہے نو موت کے بعد ان کے لیے استغفار کرتی ہے نہ ان کے نام کا صدقہ دیتی ہے نہ ان کے لیے دعا کرتی ہے جن والدین نے اولاد کے دین اور آخرت کا ناس کر دیا ان کو اولاد سے نہ زندگی میں کچھ امید رکھنی چاہیے نہ موت کے بعد دعا اور صدقہ کا منتظر رہنا چاہیے جس کو دعا، صدقہ اور استغفار کی اہمیت و ضرورت ہی نہیں بتائی گئی وہ کیوں صدقہ دے؟ اور کیسے دعا کرے؟
بگڑی ہوئی اولاد
وہ اولاد جو کہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے جس پر انسان فخر کرتا ہے جس کی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنا خون پسینہ بہاتا ہے اس کی اگر تربیت نہ کی جائے تو بعض اوقات رحمت کی بجائے زحمت بن جاتی ہے دل کے سکون کی بجائے پریشانی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور والدین کی شاہراہ حیات پر پھولوں کی بجائے کانٹے بکھیر دیتی ہے ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیتی ہے ان کے دن کا سکون اور رات کی نیند حرام کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض والدین تنگ آ کر یہ کہہ دیتے ہیں اے کاش تو نے جنم ہی نہ لیا ہوتا اور کبھی بد دعائیں کرتے ہیں لیکن بد دعا کرنے سے پہلے کبھی والدین نے یہ سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہ کی اولاد کا بگاڑ کہیں ہماری غلط تربیت کا نتیجہ تو نہیں یاد رکھیں جو والدین بگڑی اولاد کا گلہ کرتے ہیں انہوں نے کبھی سوچا ہے کہ وہ اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کو کاٹ رہے ہیں۔
ڈوبی ہیں جو انگلیاں میرے خود اپنے لہو میں
یہ کانچ کے ٹکڑوں کو اٹھانے کی سزا ہے
جی ہاں ببول کے درخت بیج کر گل و لالہ کے اگنے کی توقع رکھنا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔ والدین کے مقام و مرتبہ سے نا آشنا اولاد سے ادب و احترام اور خدمت و اکرام کی امید باندھنا پانی میں آگ تلاش کرنا ہے غلط ماحول میں پروان چڑھنے والی نسل نو سے وفا داری و خدمت گزاری اور اطاعت شعاری کی آس باندھنا ایسے ہے جیسے صحراؤں میں گلستان دیکھنے کی تمنا رکھنا۔
نیک تربیت اولاد کا حق ہے
جس طرح ماں باپ کی خدمت، ان کا احترام و اکرام اور ان کے حقوق کی بجا آوری اولاد پر ضروری ہے اسی طرح ماں باپ پر بھی اولاد کے حقوق ہیں ان میں اولاد کی دینی تعلیم و تربیت اور نیک پرورش کرنا انتہائی اہم حق ہے جو والدین اس ذمہ داری کو ادا کریں گے وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہونگے اور جو اس عظیم فریضہ سے غفلت برتیں گے ان پر بڑا عذاب اور وبال ہو گا جیسا کہ حدیث میں ہے ’’قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان والدین کو ہو گا جنہوں نے اپنی اولاد کی نیک تربیت نہیں کی ہو گی۔‘‘
اولاد کی تربیت والدین پر فرض ہے
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اولاد کی تربیت کو ضروری