مقدمہ
ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر یہ خواہش رکھی ہے کہ وہ شادی کے بعد صاحب اولاد ہو جائے حتیٰ کہ انبیاء و اولیاء نے بھی یہ تمنائیں کیں اور دعائیں مانگیں۔ اولاد دینا نہ دینا دونوں اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور دونوں میں اللہ کی حکمتیں پوشیدہ ہیں کسی کو اولاد دے کر آزماتا ہے اور کسی کو نہ دے کر بالکل اسی طرح جیسے کسی کو مال دے کر آزماتا ہے (کہ آیا وہ اسے میری اطاعت و فرمانبرداری میں لگاتا ہے یا نافرمانی میں) اور کسی کو مال نہ دے کر (کہ آیا وہ صبر و رضا کا مظاہرہ کرتا ہے یا نا صبری و ناراضگی کا)
اولاد ایک نعمت ہے
اولاد اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر ان لوگوں سے پوچھی جائے جن کے گھر کے آنگن میں یہ پھول نہیں کھلا، کشادہ اور وسیع گھر، نوکروں و خدام کی ایک فوج ظفر موج، دنیا کی ہر آسائش میسر ہے مگر پھر بھی گھر سونا سونا اور ویران ویران سا لگتا ہے کیوں کیا وجہ ہے؟ اس لیے کہ گھر کے گلشن میں بچے کی صورت میں کھلنے والا پھول جو سارے گھر اور گھر والوں کو معطر کر دے وہ نہیں ہے۔ اور اس کے حصول کے لیے ہزارہا جتن کیے جا رہے ہیں نذریں مانی جا رہی ہیں روزے بھی رکھے جا رہے ہیں حرمین شریفین میں حاضری کا موقعہ ملا تو غلاف کعبہ پکڑ کر، مقام ابراہیم پر نوافل کی ادائیگی کے بعد، میدان عرفات، میں، جبل رحمت پر، روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت کے موقع پر حصول اولاد کے لیے دعاؤں پہ دعائیں مانگی جا رہی ہیں کسی بزرگ کے پاس جانا ہوتا ہے تب بھی اسی دعا کی درخواست کی جاتی ہے کہ اولاد کے بغیر ایسی زندگی خالی خالی اور بے مزہ سی لگتی ہے اور اتنے جتن کرنے کے بعد جب اللہ کسی کی سن لیتا ہے تو وہ خوشیاں مناتا ہے دوست احباب کو مٹھائیاں کھلاتا اور مبارکبادیں وصول کرتا ہے یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔
اولاد کا نیک ہونا رحمت اور برا ہونا زحمت ہے
اولاد کا ہونا ایک نعمت اور ایک خوشی ہے اور اس کا نیک و فرمانبردار ہونا، شب زندہ دار و ذمہ دار ہونا دوگنی نعمت اور دوگنی خوشی ہے کیونکہ وہ دنیا میں نیک نامی، مرنے کے بعد صدقہ جاریہ اور قیامت کے دن باعث نجات و شفاعت ہو گی جبکہ بری اولاد تو انسان کے لیے دنیا میں بھی تکلیف کا سبب بنتی ہے اور آخرت میں بھی شر مساری کا باعث بنے گی، بری اولاد کا کیا بتایا جائے وہ انسان کے لیے چھٹی انگلی کی طرح ہوتی ہے انسان نہ اس کو کاٹ سکتا ہے نہ برداشت کر سکتا ہے۔
جو اولاد دینی تقاضوں سے بے خبر ہوتی ہے وہ ماں باپ کے حقوق سے بھی نا واقف ہوتی ہے فیشن کی پرستار اس اولاد کے نزدیک ماں باپ کی حیثیت گھر کے بوڑھے ملازم سے بھی کم ہوتی ہے اب ماں باپ کو ان کے پاس رہنا تو ہوتا ہے مگر دل ہی دل میں گھٹ گھٹ کر جی رہے ہوتے ہیں اور ان کی زندگی