تقریظ
آبروئے قلم، مقرر ذیشان شیخ القرآن حضرت اقدس مولانا محمد اسلم شیخو پوری دامت برکاتھم العالیہ، کالم نگار ’’ضرب مومن‘‘ و استاذ الحدیث جامعۃ الرشید کراچی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ربیع الاول ۱۴۲۶ھ میں لاہور کے ایک سفر کے دوران مولانا محمد ریاض جمیل صاحب زید مجدھم سے پہلی بار ملاقات ہوئی پہلی ہی ملاقات میں یہ نا چیز ان کے اعلیٰ اخلاق، طالبعلمانہ مزاج اور ذوق مطالعہ سے متاثر ہوا، مولانا نہ صرف ایک محنتی اور ذی استعداد مدرس ہیں بلکہ قلم و قرطاس کی دنیا سے بھی انہوں نے اپنا رشتہ استوار کر رکھا ہے۔ دوران گفتگو پتہ چلا کہ انہوں نے حال ہی میں ’’تربیت اولاد‘‘ کے موضوع پر مختلف علماء (کے بیانات) اور اہل قلم کے مضامین جمع کر کے انہیں کتابی شکل دی ہے بندہ کو کتاب کے مسودہ پر اچٹتی سی نظر ڈالنے کا اتفاق ہوا، چونکہ پا بر رکاب تھا اس لیے تفصیلی مطالعہ نہ کر سکا، مولانا نے محض حسنِ ظن کی بناء پر اصرار کیا کہ کتاب کی افادیت کے حوالے سے چند سطریں لکھ دوں۔
جہاں تک موضوع کی افادیت کا تعلق ہے وہ اظہر من الشمس ہے، اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ہے اور امانت بھی، جو والدین اولاد کی صحیح نہج پر تربیت کرتے ہیں وہ امانت کا حق ادا کرتے ہیں اور جو اس بارے میں تساھل اور تغافل سے کام لیتے ہیں وہ ایک بڑی امانت میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ان والدین کے لیے ایک مشفق رہنما ثابت ہو گی جو اس امانت کا حق ادا کرنے کا عزم مصمم رکھتے ہیں۔ کتاب کی زبان سلیس، انداز پرکشش اور ترتیب حسن ذوق کی آئینہ دار ہے۔
محتاجِ دعا
محمد اسلم شیخو پوری
---
تقریظ
ادیب بے بدل خطیب بے مثل مبلغ اسلام حضرت مولانا محمود الرشید حدوٹی صاحب مدظلھم العالی، استاذ الفنون جامعہ اشرفیہ لاہور
بسم اللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ:
یہود و نصاریٰ نئی پود کو راہ راست سے ہٹا کر کھائیوں میں دھکیلنے کے لیے کوشاں ہیں، اور ان کا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نسل نو کے اندر سے تمام تر محاسن کشید کرنا چاہتا ہے، اغیار کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی اولاد ان کی اولاد کی طرح شتر بے مہار اور آوارہ دکھائی دے، اسی مقصد کے لیے انہوں نے مختلف اقسام کے اسکولوں اور اداروں کی طرح ڈالی ہے، مگر مسلم امہ انتہائی دگر گوں حالات سے گزر رہی ہے، انہیں اولاد کی سمت معلوم نہیں، آج کے مادی دور میں ہر شخص مفادات کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے، مسائل در مسائل پریشانیاں در پریشانیاں، ایسے میں سجھائی نہیں دیتا کہ طوفانوں کا رخ کیسے موڑا جائے، ہوا کے تیز جھونکوں کو کیسے تھاما جائے، انارکی اور بے راہروی کے اسپِ بے لگام کو کیسے قابو کیا جائے؟ اندریں حالات حضرت مولانا ریاض جمیل صاحب جیسے قلندر صفت علماء کا قلم اور زبان کی متاع عزیز لے کر میدان عمل میں اترنا کسی جہاد سے کم نہیں ہے۔
مولانا محمد ریاض جمیل صاحب سے راقم الحروف کو پہلے کوئی شناسائی نہ تھی، مگر حال ہی میں ان کی چند ادبی کاوشوں کے ساتھ ساتھ ان کی علمی مجالس سے استفادے کا موقع ملا تو خاکسار نے انہیں ایک با ذوق عالم اور صاحب تحریر پایا، ’’اولاد کی تربیت کیسے کریں؟‘‘ میں مولانا موصوف نے قرآن و سنت کے گوہر ہائے آب دار کو ایک مالا میں پرو کر والدین پر احسان عظیم کیا ہے، میں ساری کتاب کو تو نہ دیکھ سکا تا ہم بعض مقامات پہ نظر ڈالی، کئی اوراق پلٹے اور کھنگا لے، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تصنیف بھی مولانا کی دوسری کتابوں کی طرح ایک شاہکار ہے، مجموعی لحاظ سے یہ ایک قابل قدر کاوش ہے، جس سے والدین کو ایک مشعل راہ ملے گی، جس کی روشنی میں وہ اپنی اولاد کو منزل مراد کی سمت گامزن کرنے میں با مراد اور کامیاب ہو سکیں گے، تربیتی اداروں کے لیے بھی یہ ایک دستاویزی کتاب ہے، ہر لائبریری اور کتب خانہ کی بنیادی ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ مولانا محمد ریاض جمیل صاحب کی کاوش کو اپنی بار گاہ میں شرف قبولیت بخشے۔ آمین
فقط
محمود الرشید حدوٹی
استاذ جامعہ اشرفیہ لاہور
مدیر اعلیٰ، ماہنامہ آب حیات لاہور
---
بسم اللہ الرحمن الرحیم