کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)
بتلائیے ایسی شخصیت کو کیا تسلیم کریں؟
۲… اصول
مرزاقادیانی کہتا ہے کہ:
۱… ’’کسی سچے اور عقل مند اور صاف دل انسان کے کلام میں اتنا تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملادیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہوجاتا ہے۔‘‘ (ست بچن ص۳۰، خزائن ج۱۰ ص۱۴۲)
۲… ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریقے سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘ (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)
۳… ’’تلک کلم متناقضتہ متہا فتۃ لا ینطق بہا الا الذی ضلت ھواسہ، وغرب عقلہ وقیاسہ وترک طریق المہتدین‘‘
(انجام آتھم ص۸۳، خزائن ج۱۱ ص۸۳)
مندرجہ بالا تینوں قادیانی عبارات اور حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح الدماغ انسان کے کلام میں تناقض اور مخالفت (کہیں ایک بات لکھے اور دوسری اس کے خلاف اور بات لکھ دے) نہیں ہوسکتی۔ ہاں پاگل، منافق، مخبوط الحواس اور گمراہ کے کلام میں ایسا ہو سکتا ہے۔ اب ذیل میں جناب مرزاقادیانی کی شہادت اور اقرار سنئے۔ لکھتے ہیں کہ:
۱… ’’(میں نے) ان دو متناقض باتوں (حیات مسیح اور وفات مسیح، ناقل) کو براہین میں جمع کردیا۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۸، خزائن ج۱۹ ص۱۱۴)
۲… ’’رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں تناقض کیوں پیدا ہوگیا۔ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسا براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہوں۔ اس تناقض کا سبب بھی یہی تھا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۸،۱۴۹، خزائن ج۲۲ص۱۵۲،۱۵۳)
۳… ’’اس جگہ یاد رہے کہ میں نے براہین میں غلطی سے توفی کے معنی ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں۔ جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں۔ مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں۔ میں مانتا ہوں وہ میری غلطی ہے… میرا اپنا عقیدہ جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھا ان الہامات کے منشاء سے جو براہین احمدیہ میں درج ہیں۔ صریح نقیض پڑا ہوا ہے۔‘‘