Deobandi Books

احتساب قادیانیت جلد 21 ۔ غیر موافق للمطبوع - یونیکوڈ

98 - 377
	اور (ازالۃ الاوہام ص۳۱۵ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۶۰) میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’نبی لوگ دعا اور تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں۔ معجزہ نمائی کی ایسی قدرت نہیں رکھتے۔ جیسا کہ انسان کو ہاتھ پیر ہلانے کی قدرت ہوتی ہے۔‘‘ اور نیز (ازالۃ الاوہام ص۳۲۰،۳۲۱ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۶۳) میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’اناجیل اربعہ کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح جوجوکام اپنی قوم کو دکھاتا تھا وہ دعا کے ذریعے سے ہرگز نہیں اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا۔ بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعے سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی۔ ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھی ہوگی وہ ہمارے اس بیان کی بیقین تمام تصدیق کرے گا اور قرآن شریف کی آیات بھی باآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خداتعالیٰ نے صاف فرمادیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہریک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجربہ اس زمانے میں ہورہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے۔ جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا۔ جس میں ہرقسم کے بیمار اور تمام مجذوم ومفلوج ومبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے۔ لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہ تھا۔‘‘
	دعا کا ذکر نہ ہونے سے مرزاقادیانی جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ عجائب جس کا ذکر حق تعالیٰ بطور اعجاز بیان فرماتا ہے وہ معجزات نہ تھے تو اس لحاظ سے فطرتی قوت بھی ثابت نہ کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ اس کا بھی ذکر اس آیۂ شریفہ میں نہیں ہے۔ پھر اپنی رائے سے ایک غیر مذکور چیز کو ثابت کرنا اور خدائے تعالیٰ کی خبر کو نہ ماننا کس قسم کی بات ہے۔ اگر معجزے کے لئے یہ شرط ہے کہ وضو کر کے دورکعت نماز پڑھ کر وقت خاص میں دعا کی جائے اور اس کی قبولیت کے لئے حضّار مجلس آمین آمین اس وقت تک کہتے رہیں کہ آثار اجابت ظاہر ہوجائیں تو اس آیہ شریفہ میں دعا کرنا بھی باقتضاء النص مقدر سمجھا جاسکتا ہے۔ جس کو اصول الشاشی پڑھا ہوا شخص بھی جانتا ہے۔
	پھر اگر وہ کام فطرتی طور پر ہوتے تھے تو ان پر ایمان لانے کی کیا ضرورت مثلاً اگر کہا جائے کہ ایک نجار صندوق میں قفل نصب کرتا ہے یا کسی کے ذریعے سے فلاں کام کرتا ہے تو کیا اس قسم کی خبر کی نسبت یہ کہا جائے گا کہ تم اس پر ایمان لاؤ ہر گز نہیں۔ حالانکہ یہاں حق تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ جو لوگ ہماری باتوں پر ایمان لاتے ہیں وہ اس کو آیت یعنی نشانی قدرت کی سمجھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کلام پر ایمان لانا منظور نہیں۔ جب ہی تو حیلے اور بہانے ہورہے ہیں۔ ورنہ وہ خود (براہین احمدیہ ص۴۹۵ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳، خزائن ج۱ ص۵۸۸،۵۸۹) میں لکھتے ہیں۔
	’’واصل تام کو مجمع الاضداد ہونا پڑا کہ وہ کامل طور پر روبخدا بھی ہو اور پھر کامل طور پر روبخلق بھی۔ پس وہ ان دونوں قوسوں، الوہیت اور انسانیت میں ایک وتر کی طرح واقع ہے۔ جو دونوں سے تعلق کامل رکھتا ہے… جب کامل تزکیہ کے ذریعے سے انسان کامل سیرالی اﷲ سے سیر فی اﷲ کے ساتھ متحقق ہو جائے اور اپنی ہستی ناچیز سے بالکل ناپدید ہوکر اور غرق دریائے بیچون وبیچگون ہوکر ایک جدید ہستی پیدا کرے۔ جس میں بیگانگی اور دوئی اور جہل اور نادانی نہیں ہے اور صبغتہ اﷲ کے پاک رنگ سے کامل رنگینی میسر ہے۔‘‘ اب دیکھئے کہ مرزاقادیانی خود اپنے ذاتی تجربے کی خبر دیتے ہیں کہ اولیاء اﷲ وقت واحد میں روبخلق وروبخدا ہوتے ہیں اور یہ باتفاق جمیع 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بسم اﷲ الرحمن الرحیم! 1 1
Flag Counter