Deobandi Books

زبدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع جلد 2

8 - 109
 ۵. تین بار کلّی کرنا اور ہر دفعہ جدا پانی لینا سنت ہے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو پانی پہچانے میں مبالغہ کرنا یعنی غرغرہ کرنا افضل ہے۔ ایک ہی دفعہ کے پانی یعنی ایک ہی چلو سے تین بار کلّی کرنا جائز ہے۔ 
 ۶. ناک میں تین بار پانی ڈالنا، ہر بار جدا پانی لے ، ایک ہی چلو سے تین بار ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں ، اگر روزہ دار نہ ہو تو اس میں مبالغہ کرنا یعنی ناک میں نرم حصہ تک پانی پہچانا اور ترتیب یعنی پہلے کلّی کرنا پھر ناک میں پانی ڈالنا افضل ہے۔ 
 ۷. داڑھی کا خلال کرنا جبکہ داڑھی گنجان ہو اور وہ شخص احرام کی حالت میں نہ ہو، خلال کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر داڑھی کے نیچے کے بالوں کی جڑوں میں ڈالے اور داڑھی میں انگلیاں ڈال کر نیچے کی جانب سے اوپر کو خلال کرے اور اس طرح کہ ہاتھ کی پشت گردن کی طرف رہے یعنی انگلیوں کی پشت بالوں کے ساتھ لگے اور ہتھیلی باہر کی جانب رہے۔ بعض کے نزدیک اس کی ترکیب یہ بھی ہے کہ بالوں کے نیچے سے انگلیاں اس طرح داخل کرے کہ ہتھیلی گردن کی طرف ہو اور ہاتھ کی پشت باہر کی طرف ہو تاکہ چلو کا پانی بالوں میں داخل ہو سکے۔حدیث شریف کے الفاظ سے یہی صورت متبادر ہو تی ہے 
 ۸. ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا، ہاتھوں کی انگلیوں کے خلال کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالے اور پانی ٹپکتا ہوا ہو یہی طریقہ اولیٰ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک ہاتھ کی ہتھیلی اس ہاتھ کی پشت پر جس کا خلال کرنا ہے رکھ کر اوپر کے ہاتھ کی انگلیاں نیچے کے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر کھینچے اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کا خلال کرے۔ پاؤں کے خلال اس طرح کرے کہ بائیں ہاتھ کی چھنگلیا کے ذریعہ پاؤں کی انگلیوں کے نیچے سے اوپر کو خلال کرے اور دائیں پاؤں کی چھنگلیا سے شروع کر کے بائیں پاؤں کی چھنگلیا پر ختم کرے۔ پانی میں ہاتھ یا پاؤں داخل کر دینا خلال کے لئے کافی ہے خواہ پانی جاری ہو یا نہ ہو۔ اگر انگلیاں۔بالکل ملی ہوئی ہوں تو خلال واجب ہے 
Flag Counter